بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/07/2026

دارالافتاء

 

نکاح میں اصل باپ کا نام لیاجائے یا مربی کا


سوال

ایک عورت کا خاوند فوت ہوا وفات کے بعد اس عورت نے خاوند کے بھائی کے ساتھ نکاح کیا اور اس عورت کا پہلے شوہر سے بیٹیاں ہیں جو نکاح کے قابل ہیں ۔نکاح کے وقت اب اس لڑکی کےحقیقی باپ کا نام لیا جائے گا یا اس کے چچا کا نام لیا جائے گا جوابھی  اس لڑکی کی ماں کا شوہر ہے ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے نکاح میں زوجین کااس طرح تذکرہ ضروری ہے کہ وہ دیگر افراد سے الگ اور  ممتاز ہو سکیں اوران  کی ذات سے متعلق کسی قسم کا  ابہام  یا جہالت باقی نہ رہے ۔ اس  لیے فقہائے کرام نے زوجین کے تعارف میں  ہر ایک کے والد کا  ذکر  مناسب  قرار دیا ہے ، اورتعارف کا یہی طریقہ بہترین ہے ۔

لہذا صورت مسئو لہ میں  لڑکی  کےنکاح میں اس  کے اصل باپ کا نام لیا  جائے    نہ کہ اس کے چچا کا   ،کیونکہ کسی بھی شخص کی نسبت اس کے حقیقی باپ کی بجائے کسی اور کی طرف کرنا شرعا ممنوع ہے ۔

 ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللَّهِ فَإِنْ لَمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ (الاحزاب،آیت  5)

وَمِنْهَا أَنْ يَكُونَ الزَّوْجُ وَالزَّوْجَةُ مَعْلُومَيْنِ فَلَوْ زَوَّجَ بِنْتَهُ وَلَهُ بِنْتَانِ لَا يَصِحُّ إلَّا إذَا كانت إحْدَاهُمَا مُتَزَوِّجَةً فَيَنْصَرِفُ إلَى الْفَارِغَةِ كَذَا في النَّهْرِ الْفَائِقِ جَارِيَةٌ سُمِّيَتْ في صِغَرِهَا بِاسْمٍ فلما كَبِرَتْ سُمِّيَتْ بِاسْمٍ آخَرَ قال تُزَوَّجُ بِاسْمِهَا الْآخَرِ إذَا صَارَتْ مَعْرُوفَةً بِاسْمِهَا الْآخَرِ وَالْأَصَحُّ عِنْدِي أَنْ يُجْمَعَ بين الِاسْمَيْنِ كَذَا في الظَّهِيرِيَّةِ۔(الفتاوی الھندیۃ  ،کتاب النکاح ،الباب الاول ،ج1 ص270)


فتویٰ نمبر : 6182/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں