بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

فیصد کے اعتبار سے نفع متعین کرکے کاروبار میں پیسے خرچ کرنا


سوال

اگر کسی بندے کو پیسے دے اور وہ فیصد کے اعتبار سے منافع دے اور کاروبار جائز ہو تو ایسے کاروبار میں پیسے لگانا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

ایک شخص کے سرمایہ اور دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار عقد مضاربت کہلاتا ہے ۔ مضاربت کی من جملہ شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ راس المال معلوم ہو اورنفع کی تقسیم مضارب اور رب المال کے درمیان کسی خاص تناسب سے مقرر ہو یعنی نفع کو فیصد کے اعتبار سے متعین کیا جائے جب کہ نقصان کا ذمہ دار صرف رب المال(مالک مال )ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق جو بندہ پیسے دیتاہے اگر سرمایہ صرف اسی کا ہو اور دوسرے کا سرمایہ نہ ہو بلکہ اس کا صرف عمل ہو تو یہ معاملہ عقد مضاربت ہے ۔دیگرشرائط کی رعایت کے ساتھ ساتھ نفع کو فیصد کے اعتبار سے متعین کیا جائے۔

المضاربة نوع شركةعلى أن رأس المال  من طرف والسعي والعمل من الطرف الآخر۔(شرح المجلة لسليم رستم باز ،كتاب المضاربة،الفصل الاول،المادة:1404ص744)

ومن شرطها أن يكون الربح بينهما مشاعا لا يستحق أحدهما دراهم مسماة من الربح۔۔۔۔لفساده فلعله لا يربح إلا هذا القدر۔(الهداية،كتاب المضاربةج3ص263)

ویشترط ایضافي المضاربةان يكون نصيب كل منهما من الربح معلوما عند العقد ؛لان الربح هو المعقود عليه ،و جهالته توجب فساد العقد ۔(فتح القدير ،كتاب المضاربةج7ص421)


فتویٰ نمبر : 2756/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں