بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

ڈسکاؤنٹ دینے کا حکم


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:

1. ایک بلڈنگ ہے جو کہ زیر تعمیر ہے  اس میں دوکانوں کی بکنگ جاری ہے  ، کمپنی آفر دے رہی ہے کہ جو قسط وار بکنگ کی بجائے نقد رقم ادا کرے تو اسے کل قیمت  میں سے 10 فیصد ڈسکاؤنٹ دیا جائے گا ، کیا ایسی بیع درست ہے؟

2. بلڈنگ میں دوکان کی  رقم یکمشت ادا کرنے پر جو 10 فیصد رقم کمپنی معاف کر رہی ہے وہ ابھی واپس نہیں دے رہی بلکہ کمپنی کا کہنا ہے کہ  جب تک آپ کی دوکان میں کرایہ دار نہیں ہے تب تک یہی 10 فیصد معافی کی رقم کسٹمر کو بطور کرایہ دی جائے گی ، کیا یہ طریقہ درست ہے؟

جواب

(1) شرعی نقطہ نظر سے کوئی چیز نقد کم قیمت جبکہ قسط وار زیادہ قیمت  پر فروخت کرنا  جائز ہے البتہ ایسی بیع میں متعاقدین پر لازم ہے کہ بوقت عقد مبیع کی قیمت  اور ادھار ہونے کی صورت میں رقم کی ادائیگی کے لئے مدت متعین کرلیں  چنانچہ  صورت مسئولہ میں  اگر کمپنی نے دوکانوں / فلیٹس وغیرکی  اصل قیمت متعین کی ہو  اور یہ آفر دی ہو کہ جو رقم کی یکمشت ادائیگی کرے اسے 10 فیصد رقم معاف کی جائے گی تو  یہ بیع درست ہے۔

(2)عاقدین کے مابین بوقت عقد مبیع کی جو رقم متعین ہو جائے تو مشتری پر صرف وہی رقم ادا کرنا  لازم ہے لہذا  اگر کمپنی کے ساتھ عقد کے وقت ڈسکاؤنٹ کے بعد بقیہ رقم پر عقد ہوا ہو، مثلا: (دوکان کی اصل قیمت 20 لاکھ ہو اور یکمشت ادائیگی کرنے والے کو 10 فیصد ڈسکاؤنٹ دے کر 18 لاکھ پر عقد ہو جائے) تو ایسی صورت میں کمپنی کسٹمر سے زائد رقم لینے کا  استحقاق نہیں رکھتی  لیکن  اگر کمپنی  اور کسٹمر کے مابین عقد اصل قیمت پر ہی ہو جائے تو کسٹمر پوری قیمت ادا کرنے کا پابند ہوگا پھر کمپنی کسٹمر کو 10 فیصد ڈسکاؤنٹ کی رقم جس وقت اور جس طریقہ سے چاہے ادا کر سکتی ہے۔

وكذا إذا قال بعتك هذا العبد بألف درهم إلى سنة أو بألف وخمسمائة إلى سنتين لأن الثمن مجهول ۔۔۔ فإذا علم ورضي به جاز البيع لأن المانع من الجواز وهو الجهالة عند العقد وقد زالت في المجلس وله حكم حالة العقد فصار كأنه كان معلوما عند العقد وإن لم يعلم به حتى إذا افترقا تقرر الفساد۔  (بدائع الصنائع ، فصل و اما شرائط الصحة فانواع ، ج5 ، ص158)

قال ويجوز للمشتري أن يزيد للبائع في الثمن ويجوز للبائع أن يزيد للمشتري في المبيع ويجوز أن يحط من الثمن ويتعلق الاستحقاق بجميع ذلك فالزيادة والحط يلتحقان بأصل العقد عندنا۔  (الهداية شرح البداية ، ج3 ، ص60)

لو باع باثني عشر وحط عنه درهمين ثم عقدا بعشرة لا ينفسخ الأول لأنه مثله إذ الحط يلتحق بأصل العقد۔ (البحر الرائق ، باب الإقالة ، ج6 ، ص114)


فتویٰ نمبر : 2766/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں