بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بیوہ اور حقیقی بھائی کے درمیان میراث تقسیم کرنا


سوال

خان شیرین فوت ہو چکا ہے اس کے ورثا میں سے ایک بیوہ ،ایک حقیقی بھائی ،دو علاتی بھائی اور پانچ علاتی بہنیں اور ایک سوتیلی ماں زندہ موجود ہیں اب سوال یہ ہے کہ ان ورثا کے درمیان کس حساب سے میراث تقسیم ہوگا ؟

جواب

میـــــــــــــــــــــ(خان شیرین)ــــ(4)ـــــــــــــــــــــــــــت

بیوہ   ایک عینی بھائی  دوعلاتی بھائی   پانچ علاتی بہنیں  سوتیلی ماں 

1          3                 م                 م                  م  

بشرط صدق وثبوت اگر مرحوم کے مندرجہ بالا ورثا کے علاوہ اور کوئی وارث ذوی الفروض یا عصبات میں سے زندہ موجود نہ ہو تو مرحوم کا کل ترکہ چار حصوں میں تقسیم کرکے بیوہ کو 1/4حصہ اور حقیقی بھائی کو 3/4حصے ملیں گے جب کہ سوتیلی ما ں اور علاتی بہن بھائیوں کا مرحوم کے میراث میں کوئی حصہ نہیں بنتا ۔

قال اللہ تبارک وتعالی :وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ ۔ (سورۃ النساء12)

فَأَقْرَبُ الْعَصَبَاتِ الِابْنُ ثُمَّ ابن الِابْنِ وَإِنْ سَفَلَ ثُمَّ الْأَبُ ثُمَّ الْجَدُّ أَبُ الْأَبِ وَإِنْ عَلَا ثُمَّ الْأَخُ لِأَبٍ وَأُمٍّ ثُمَّ الْأَخُ لِأَبٍ۔(الفتاوى الهندية ، كتاب الفرائض ،الباب الثالث في العصبات:443/6)


فتویٰ نمبر : 4036/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں