بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

زندگی بھر كمائى كى نذر ماننا


سوال

کیا فرماتے ہیں علماے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے یہ نذر مانی ہے کہ"اگر اللہ تعالیٰ مجھےلڑکا دے تو میں ساری زندگی میں جو پیسےکماتا رہوں گا اس میں سے پورا یا آدھا مال اللہ تعالیٰ کے نام پرلازمی نذرانہ دوں گا"واقعی خداوند تعالیٰ نے مجھے لڑکا بخش دیا ۔اب میرے لیے یہ مال دینا دشوار ہے۔میرے لیے شریعتِ میں اس کا کیا حکم ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے جب کوئی شخص اپنی نذر کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرتاہے تو وجودِشرط  کی صورت میں ناذر پر بعینہ منذور چیز واجب ہوجاتی ہے،تاہم اگرنذرکی ادائیگی اس کےلیےممکن نہ ہوتو کفارہ یمین کی ادائیگی سے اس کا ذمہ فارغ ہوسکتاہے۔صورتِ مسئولہ میں سائل نے اپنی ساری زندگی کی کمائی کا پورا یا آدھاحصہ دینےکی نذر مانی ہے اور شرط پوری ہوگئی ہے تو اب اس پر نذر پورا کرنا لازم ہے۔لیکن اگر سائل کےلیے اس نذر کا پوراکرناممکن نہ ہوتو  کفارہ یمین دےکرنذر سے فارغ ہوسکتا ہے۔کفارہ  یمین یہ ہے کہ دس مسکینوں کودو وقت کا مناسب کھانا کھلایاجائے،یادس مسکینوں کو کپڑے دیے جائیں یا غلام آزاد کرلیاجائے،اگر ان میں سے کسی پر بھی قدرت نہ ہوتوحنفیہ کے نزدیک مسلسل تین روزے رکھ لے۔

فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ( المائدة ، الآية : 89 ) 

 وَعَنْ أبي حَنِيفَةَ أَنَّهُ رَجَعَ عنه فقال إنْ فَعَلْت كَذَا فَعَلَيَّ حَجَّةٌ أو صَوْمُ سَنَةٍ أو صَدَقَةُ ما أَمْلِكُهُ أَجْزَأَهُ عن ذلك كَفَّارَةُ يَمِينٍ  وهو قَوْلُ مُحَمَّدٍ وَيَخْرُجُ عن الْعُهْدَةِ بِالْوَفَاءِ بِمَا سَمَّى.(البحرالرائق،كتاب الأيمان،ج4ص320)


فتویٰ نمبر : 4519/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں