بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

پلاٹ فروخت کرنے سے زکوۃ کی ادائیگی


سوال

ایک آدمی نے 4 لاکھ پر ایک پلاٹ خرید لی ،اور پھر اس پر 2 لاکھ خرچہ کیا یعنی بنیاد اور ریت بھرنے کا خرچہ ۔اور 3 سال بعد اس کو منافع پر بیچ دیا تو کل رقم 13 لاکھ ہو ئی(1) اب مسئلہ یہ ہے کہ پلاٹ میں زکوۃ 6 لاکھ کے حساب سے ہو گا ۔یا 13 لاکھ کے حساب سے ۔نیز کتنا زکوۃ واجب ہو گا ؟

جواب

 پلاٹ  میں زکوۃ  کے وجوب کیلئے تجارت کی نیت کا ہو نا ضروری ہے  لہذا  اگر  کوئی پلاٹ تجارت کی غرض سے  خریدا گیا ہو  تو  اس کی قیمت  پر ہر سال زکوۃ فرض ہو گی ۔

                صورت مسؤلہ میں جو پلاٹ  تین سال بعد فروخت کیا گیا  اگر یہ پلاٹ خریدتے وقت تجارت کی نیت تھی  تو اس شخص کے نصاب پر  پر سال گزرنے کے وقت  پلاٹ کی مالیت پر بھی  ڈھائی فی صد زکوۃ واجب تھی  لیکن اگر زکوۃ ادا نہ کی ہو  اور تین سال بعد پلاٹ تیرہ لاکھ پر فروخت کیا گیا  تو ابھی  تیرہ لاکھ کے حساب سے  گزشتہ سالوں کی  زکوۃ ادا کی جائے گی ۔

الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق و الذهب۔ وَتُشْتَرَطُ نِيَّةُالتِّجَارَةِ) لِأَنَّهُ لَمَّا لَمْ تَكُنْ لِلتِّجَارَةِ خِلْقَةً فَلَا يَصِيرُ لَهَا إلَّا بِقَصْدِهَا فِيهِ۔(فتح القدير،كتاب الزكوة،باب زكوة المال،ج2ص166)

وتعتبر القيمة يوم الوجوب وقالا يوم الأداء۔وقال ابن عابدين تحته: وفي المحيط يعتبر يوم الأداء بالإجماع وهو الأصح ۔ فهو تصحيح للقول الثاني الموافق لقولهما وعليه فاعتبار يوم الأداء يكون متفقا عليه عنده وعندهما ۔(الدر المختار مع رد المحتار كتاب الزكوة ،باب زكوة الغنم،ج2ص286)

أن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا لأن المذهب عندهم أنه إذا هلك النصاب بعد الحول تسقط الزكاة سواء كان من السوائم أو من أموال التجارة ۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،فصل في صفة الواجب  في مال التجارة،ج2ص418)


فتویٰ نمبر : 8732/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں