بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

پانچ مرتبہ طلاق معلق کرنے کی ایک صورت


سوال

مندرجہ ذیل صورت حال کے متعلق طلاق واقع ہو نے یا نہ ہو نے کی وضاحت مطلوب ہیں : (1)شوہر (محمد یوسف) نے اپنی بیوی شبانہ سے کہا کہ اگر تم کسی کے گھر میری اجازت کے بغیر چلی گئی تو تجھے طلاق ہے ،کچھ عرصہ بعد عورت کے بیان کے مطابق اس نے شوہر سے اجازت لی تو اس نے کہا کہ میری طرف سے اجازت ہے جہاں چاہو جا سکتی ہو۔ (2)ایک دوسرے موقع پر محمد یوسف نے شبانہ سے کہا کہ اگر تو کشوری گاؤں کے علاوہ کسی اور جگہ میری اجازت کے بغیر چلی گئی تو تجھے طلاق ہے پھر بیوی شوہر کی اجاز ت کے بغیر اس گاؤں سے باہر پھوپھی کے گھر گئی ۔ (3)ایک اور موقع پر بیوی باپ کی عیادت کیلئے چلی گئی تو شوہر نے یہی بات کہہ دی کہ اگر تو میری اجزت کے بغیر باپ کے گھر کے علاوہ کہیں اور جگہ چلی گئی تو تجھے طلاق ہے ،پھر وہ بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر مینگورہ اور فضاگٹ چلی گئی تھی ۔ (4) بیوی شوہر کے ماموں زاد کی شادی پر جانا چاہتی تھی خاوند نے کہا کہ اگر تو وہاں پر آدمیوں کی جگہ چلی گئی تو تجھے طلاق ہے بیوی نے جانے سے انکار کیا ،تو اس نے زبر دستی بھیج دیا پھر وہاں جاکر بیوی مردوں کی جگہ نہیں گئی ہے البتہ شوہر کے کچھ رشتہ داروں نے آکر اس سے خیر خبر کی بات چیت کی ہے ۔ (5)ایک دن پھر شوہر نے بیوی سے کہا کہ اگر تو ایسے جھالی دار کپڑے پہنتی ہو جس میں تمہارا بدن دکھائی دیتا ہو تو تجھے طلاق ہے ،اور عورت کہتی ہے کہ اس کے بعد میں نے جھالی دار کپڑا نہیں پہنا ہے۔

جواب

 جب کوئی شخص اپنی بیوی کی طلاق  کو کسی شرط کے  ساتھ معلق کرے تو شرط کے واقع ہونے کی صورت میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اور اگر شرط واقع نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہو تی ۔

          صورت مسؤلہ کی پہلی  اور چوتھی صورت میں  جس شرط کے ساتھ  طلاق معلق کیا گیا تھا  حسب بیان اگر شرائط  موجود نہ ہوئے ہوں  تو ان سے کوئی طلاق واقع نہیں  ہوئی۔البتہ دوسری صورت میں طلاق کو جس شرط کے ساتھ  مشروط کیا تھا  چونکہ حسب سوال وہ شرط پائی گئی ہے  یعنی بیوی شوہر کی اجازت کے بغیر گاؤں  سے باہر  پھوپھی کے گھر چلی گئی  تھی  اس لیے اس صورت میں ایک طلاق واقع  ہو گئی  اس کے بعد  اگر عدت گزرنے سے پہلے  خاوند نے رجوع کر لیا ہو تو بیوی اس کیلئے حلال ہوئی ۔پھر جب اس نے  تیسری صورتکے مطابق طلاق جو معلق کیا  اور یہ شرط  بھی پائی گئی  تو اس صورت میں بیوی پر ایک اور طلاق واقع ہو گئ  اور مجموعی طور پر دو طلاقیں  واقع ہو گئیں  اس کے بعد اگر شوہرنے  عدت کے اندر رجوع کیا ہو  تب تو اس کا نکاح برقرار ہے  لیکن اگر عدت گزر چکی ہو  اور اس نے دوران عدت رجوع نہ کیا ہو تو طلاق بائن ہر کر دونوں کا رشتہ ختم ہوچکا ہے اب باہمی رضامندی سے   تجدید نکاح کے بغیر  دونوں ازدواجی تعلق قائم  نہیں رکھ سکتے  نیز رجوع یا تجدید دونوں صورتوں میں شوہر کے پاس مزید صرف ایک طلاق کا  حق باقی  رہے  گا۔

پانچویں  صورت میں  جب شوہر نے  بیوی سے کہا  کہ اگر تو  ایسے  جھالی دار کپڑے  پہنتی ہے جس میں تیرا بدن  دکھائی  دے  تو تجھے طلاق ہے  یہ بھی طلاق معلق کی  صورت ہے ،حسب بیان اگر بیوی نے واقعی  اس کے بعد  جھالی دار کپڑا نہ  پہنا ہو  تو اس سے طلاق واقع نہ ہو ئی  تاہم بظاہر الفاظ کے عموم  اور  ذکر کردہ  حالت  سے معلوم ہوتا  ہے  کہ طلاق معلق کرنے کی  یہ صورت  کسی وقتی   شرط کے ساتھ  مشروط نہیں لہذا آئندہ بھی اگر بیوی نے   کسی وقت جھالی دار کپڑا پہن لیا تو   اس پر ایک طلاق واقع ہو جائےگی  اور مجموعی طور پر تین طلاقوں کے ساتھ بیوی جدا ہو جائیگی ۔لہذا  بیوی کو چاہئے کہ آئندہ جھالی دار کپڑا پہننے سے مکمل گریز کرے،نیز شوہر کو ایسا موقع نہ دے جس میں  وہ اس کو  طلاق دے دے۔اسی طرح شوہر کو چاہیئے کہ آئندہ  طلاق کا لفظ  استعمال کرنے میں نہایت احتیاط سے کام لے  اور یوں بار بار  طلاق  کو  مشروط کرنے کی  عادت ترک کر دے۔

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق ۔(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق ،الباب الرابع في الطلاق بالشرط ج1 ص420)

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض ۔۔۔ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لا ملك بعد انقضائها۔(الهداية،كتاب الطلاق،باب الرجعة،ج4ص405)


فتویٰ نمبر : 6181/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں