بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

کلمہ گوشخص کو قتل کرنےسےمتعلق ایک روایت کی تحقیق


سوال

کیایہ واقعہ کسی حدیث میں آیا ہے ؟کہ ایک صحابی نے ایک شخص کوقتل کیااور وہ کلمہ پڑھ رہاتھا،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کاپتہ چلا توآپ نے اس صحابی سے فرمایا کہ تمھارااستغفار،نمازاور توبہ کچھ بھی قبول نہیں ہوتا۔

جواب

صحیحین(بخاری ومسلم) کی روایت ہے حضرت اسامہ بن زیدرضی اللہ عنھمافرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں قبیلہ جھینہ کی طرف ان پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا ،صبح کے وقت ہم نے ان پر حملہ کرکے انہیں شکست دے دی اسی دوران میں نےاور ایک دوسرے انصاری صحابی نے ان کاایک آدمی دیکھا ۔جب ہم نے اسے اپنے قابو  میں لیا تواس نے کلمہ پڑھا،کلمہ پڑھنے کے بعد وہ انصاری صحابی(میراساتھی) تواس کے قتل سے رکا ۔البتہ میں نے (یہ سمجھ کر کہ شائد یہ خودکوبچانے کے واسطے یہ کلمہ پڑھ رہاہے)اسے نیزہ مارکر قتل کردیا۔جب واپسی  پر نبی کریم ﷺ کواس کے قتل کاپتہ چلا توآپ نے مجھ سے فرمایاکہ اسامہ!تونے کلمہ پڑھنے کے باوجود اسے قتل کیا؟میں نے یہ عرض کیایارسول اللہ وہ خود کوبچانے کی غرض سے کلمہ پڑھ رہاتھاآپ باربار اسی سوال کو دہرارہے تھے یہاں تک کہ (آپ کی اس ڈانٹ کی وجہ سے) میں نے(دل میں)اس بات کی  تمنا کی کہ کاش آج سے پہلے میں نے اسلام نہ لایا ہوتا بلکہ آج ہی اسلام قبول کرلیتا(تاکہ اس ڈانٹ کاسامنا نہ کرناپڑتا)

بعض روایات میں یہ بھی اضافہ ہے کہ آپ نے   حضرت اسامہ سے فرمایا کہ کیا آپ نے اس کے دل کوچیرا تھا(کہ واقعی وہ خود کوبچانے کے لیے کلمہ پڑھ رہاتھا) پھر انہوں نے عرض کیا کہ یارسول اللہ! میرے لیے اللہ سے مغفرت طلب کریں ،آپ نے فرمایا کہ قیامت کے روز آپ اس کلمہ کے ساتھ کیاکروگے جواس نے  پڑھا تھا؟

 معجم کبیر کی ایک روایت میں آتاہے کہ ایک شخص نے کسی جنگ میں کسی کلمہ گوآدمی کوقتل کیا جب واپسی پر اس نے رسول اللہ ﷺسےاپنے لیے طلب مغفرت کاکہا توآپ نے جواب میں فرمایا کہ میں آپ کے لیے استغفار نہیں کرتا۔کتب حدیث میں یہ  واقعہ اس حد تک مذکور ہے آگے اس کے ساتھ نمازیاتوبہ قبول نہ ہونے کااضافہ ہمیں کسی روایت میں نہیں ملا۔البتہ ابوداؤد شریف میں اس مضمون کی ایک دوسری روایت میں ہے کہ جوشخص کسی مسلمان کو ظلماً قتل  کرے تواللہ تعالی ا س کانفلی اورفرضی کوئی بھی عمل قبول نہیں کرتا۔

"عن أسامة بن زيد رضي الله عنهما، يقول: بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى الحرقة، فصبحنا القوم فهزمناهم، ولحقت أنا ورجل من الأنصار رجلا منهم، فلما غشيناه، قال: لا إله إلا الله فكف الأنصاري فطعنته برمحي حتى قتلته، فلما قدمنا بلغ النبي صلى الله عليه وسلم، فقال:يا أسامة، أقتلته بعد ما قال لا إله إلا الله قلت: كان متعوذا، فما زال يكررها، حتى تمنيت أني لم أكن أسلمت قبل ذلك اليوم"(صحیح البخاری،بَابُ غَزْوَةِ مُؤْتَةَ مِنْ أَرْضِ الشَّأْمِ،144/5)

وفی اللفظ للمسلم"قال يا رسول الله، استغفر لي، قال: وكيف تصنع بلا إله إلا الله إذا جاءت يوم القيامة؟ قال: فجعل لا يزيده على أن يقول: كيف تصنع بلا إله إلا الله إذا جاءت يوم القيامة" (صحیح مسلم،باب تحريم قتل الكافر بعد أن قال: لا إله إلا الله،97/1)

وفی المعجم الکبیر"عن جندب بن سفيان رجل من بجيلة قال : إني لعند رسول الله صلى الله عليه و سلم حين جاءه بشير من سريته ۔۔۔قال : يا رسول الله استغفر لي قال :  لا أستغفر لك"(المعجم الکبیر،رقم الحدیث 1723،ج2ص176)

"عن عبادة بن الصامت، أنه سمعه يحدث عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، أنه قال:من قتل مؤمنا فاعتبط بقتله، لم يقبل الله منه صرفا، ولا عدلا " (سنن أبي داؤد، بَابٌ فِي تَعْظِيمِ قَتْلِ الْمُؤْمِنِ،103/4)


فتویٰ نمبر : 4511/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں