بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

قاتل كوپستول كاطريقہ کارسکھلانے والے شخص کاحکم


سوال

میرے ماموں زاد کاکسی اور کے ساتھ زمین پرتنازعہ تھا،وہ ہمارے گھر پستول مانگنے آیا میرے بھائی نے اسے پستول دے دیا،اور میں نے اسے اس کاساراسسٹم سمجھاکر فائرنگ کاطریقہ کارسکھادیا۔پھر فریق مخالف سے لڑائی کی نوبت تو نہیں آئی البتہ اس نے وہاں جاکر ویسے ہوائی فائرنگ کردی وہ فائر ایک گھر میں ایک چھوٹےبچے کولگی جس سے وہ فوت ہوگیا۔اب پوچھنا یہ ہے کہ مجھ پر اس کاکفارہ آتا ہے یاصرف ماموں زاد پر آتا ہے؟اور وہ کفارہ ادا نہیں کرتا تو اس کی وجہ سے میں گناہ گار ہوں گا یانہیں؟

جواب

کسی کی ہوائی فائرنگ سے اگر کوئی شخص مرجائے جبکہ اس نے نہ تواس کے قتل کاارادہ کیا ہو اور نہ ہی اسے نشانہ بنایا ہو تویہ قتل خطا کہلاتا ہے،اورقتل خطا کاحکم یہ ہے کہ اس میں دیت  اور کفارہ واجب  ہوتا ہے۔قاتل کے علاوہ اگر کوئی شخص کسی درجے میں سبب بناہو اس پر یہ حکم لاگو نہیں ہوتا۔صورت مسؤلہ میں اگراس بات کایقین ہو کہ سائل کے ماموں زاد ہی کی ہوائی فائرنگ سےوہ بچہ فوت ہوچکا ہے تو اس صورت میں صرف اسی پر کفارہ اور دیت واجب ہیں ،سائل پرنہیں،نیز اگر وہ کفارہ یادیت ادا نہیں کرتا تواس  سے وہ خود گناہ گار ہوگا   سائل نہیں۔

"( و ) الثالث ( خطأ وهو ) نوعان لأنه إما خطأ في ظن الفاعل ك ( أن يرمي شخصا ظنه صيدا أو حربيا ) أو مرتدا ( فإذا هو مسلم أو ) خطأ في نفس الفعل كأن يرمي  ( غرضا ) أو صيدا(فأصاب آدميا ) أو رمى غرضا فأصابه ثم رجع عنه أو تجاوز عنه إلى ما وراءه فأصاب رجلا أو قصد رجلا فأصاب غيره۔۔۔( وموجبه ) أي موجب هذا النوع من الفعل وهو الخطأ وما جرى مجراه ( الكفارة والدية على العاقلة ) والإثم دون إثم القتل إذا الكفارة تؤذن بالإثم لترك العزيمة"  (الدرالمختار،کتاب الجنایات ،161/10)

"قال صاحب المنار:السبب وھوأقسام،سبب حقيقي وهومايكون طريقاإلى الحكم من غيرأن يضاف إليه وجوب ولاوجود ولايعقل فيه معاني العلل  لكن يتخذ بينه وبين الحكم علة لاتضاف إلى السبب كدلالة إنسان على مال إنسان أونفسه ليسرقه أوليقتله"۔وقال الملاجيون في شرحه: فإنهاسبب حقيقي للسرقة والقتل لأنها تفضي إليه من غيرأن تكون موجبة أو موجدة له ولاتأثيرلهافي فعل السرقة أصلالكن تخلل بين الدلالة وبين السرقة علة غير مضافة إلى الدلالة وهوفعل السارق المختار وقصده إذلايلزم أن من دله أحدعلى فعل سوءيفعله المدلول ألبتة بل لعل الله يوفقه على تركه مع دلالة فإن وقع منه السرقةأوالقتل لايضمن الدال شيئالأنه صاحب سبب محض لاصاحب علة" (نورالأنوار،بيان السبب وأقسامه،117/2)


فتویٰ نمبر : 4509/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں