بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسجدکی تعمیرکےلئےغیرمسلم سےچندہ لینا


سوال

زیددبئی میں انگریزکے ساتھ ملازم ہے،زیدنے اس کے ساتھ اپنے علاقے کی ایک مسجد کی تعمیر کے بارے میں بات کی،تواس انگریزنے اسے تین ہزاردرھم دے دئیے،وہاں ایک مولوی صاحب نےزیدسےکہاکہ غیرمسلم سے مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ لیناصحیح نہیں،اوراگرخوامخواہ لیناہےتوپھراس کاطریقہ یہ ہے کہ یہ پیسے اپنے پاس رکھ دواوراپنے پاس سے تین ہزار درہم مسجد کی تعمیر میں لگاؤ۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ غیرمسلم سے چندہ لیناجائز ہے یانہیں؟ اگر نہیں توجوصورت مولاناصاحب نے بتلائی ہے اس پرعمل کرنادرست ہے کہ نہیں؟

جواب

اگرکوئی غیرمسلم مسلمانوں کی مسجد میں چندہ دینے کوقربت اورموجب ثواب سمجھتا ہو،تواس سے مسجد کی تعمیر کے لیے چندہ لیناجائزہے بشرطیکہ کسی مذموم مقصد کی خاطر وہ یہ چندہ نہ دے رہاہو۔مثلاًیہ کہ وہ کل کواپنی ملکیت اورشرکت کادعوٰی نہ کرے،یامسلمانوں پراحسان نہ جتلائے یاان کواس بات  پرعارنہ دلائےکہ ہم نے تمھاری مسجد بنائی ہے۔

لہٰذاصورت مسئولہ میں اگراس انگریز(غیرمسلم) سے مذکورہ باتوں کاخدشہ نہ ہو اوروہ مسجدمیں چندہ دینے کوموجب ثواب سمجھتاہو تواس سے مسجد کے لیے چندہ قبول کرناجائز ہے۔

"وأما الإسلام فليس من شرطه فصح وقف الذمي بشرط كونه قربة عندنا وعندهم" (البحرالرائق،کتاب الوقف،316/6)

"شرط وقف الذمي أن يكون قربة عندنا وعندهم كالوقف على الفقراء أو على مسجد القدس"(ردالمحتار،کتاب الوقف،مطلب قدیثبت الوقف بالضرورۃ،524/6)

"ولو قال يسرج به بيت المقدس أو يجعل في مرمة بيت المقدس جاز" (الفتاوٰی الھندیہ،کتاب الوقف الباب الأول،345/2)


فتویٰ نمبر : 4518/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں