بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

بیع کے ساتھ نذرکومشروط کرنےکی صورت میں فسخ بیع کےبعد ادئیگی نذرکاحکم


سوال

زیدنے یہ نذرمانی تھی کہ اگرمیری یہ کار فروخت ہوگئی تومیں پانچ ہزارروپے صدقہ کروں گا۔کچھ دنوں بعدوہ گاڑی فروخت ہوگئی تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے زید کے اس صدقے میں تاخیرہوگئی۔ایک ماہ بعدمشتری نے زید کوگاڑی اس وجہ سے واپس کردی،کہ اس گاڑی کے کاغذات اصلی نہ تھے بلکہ ڈبلی کیٹ یعنی فوٹوکاپی تھے۔اب دریافت طلب امریہ ہےکہ اس صورت میں زیدپرنذر پوراکرناواجب ہے یانہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔

جواب

جب نذرکوکسی شرط کے ساتھ مشروط کیاجائے،تواس شرط کے پائے جانے کے بعدنذرکی ادائیگی واجب ہوجاتی ہے۔جب تک شرط نہ پائی جائے تب تک ادائیگی واجب نہ ہوگی۔صورت مسؤلہ میں صدقے کوبیع کے ساتھ مشروط کیاگیاہے اور بیع اس وقت لازم ہوتی ہےجب مشتری کے پاس خیارعیب وخیارشرط وغیرہ میں سے کوئی خیارنہ رہے،یہاں چونکہ مشتری نے  خیارعیب کی وجہ سےکار(مبیع) کوواپس کردیا اسلیے یہ بیع کالعدم ہوگئی۔لہٰذا یہاں  نذر کی شرط نہیں پائی گئی ہے اس لیے زیدپر اس نذر کی ادائیگی واجب نہیں۔

"وإن كان معلقا بشرط نحو أن يقول إن شفى الله مريضي أو إن قدم فلان الغائب فلله على أن أصوم شهرا أو أصلي ركعتين أو أتصدق بدرهم ونحو ذلك فوقته  الشرط فما لم يوجد الشرط لا يجب بالإجماع" (بدائع الصنائع،کتاب النذر،358/6)

"وأما شرائط اللزوم بعد الانعقاد والنفاذ فخلوه من الخيارات الأربعة المشهورة ويزاد خيار الكمية وخيار الغبن إذا كان فيه غرور الخ"(البحرالرائق،کتاب البیع،437/5)


فتویٰ نمبر : 4517/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں