بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کیلئے عاق نامہ یا وصیت نامہ کا حکم


سوال

: کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کےبارے میں کہ کسی بیٹے کے بارے عاق نامہ یا وصیت نامہ لکھا ہو تو قرآن اور سنت کی روشنی میں اس کی کیا حیثیت ہے؟ 

جواب

شریعت میں استحقاق ارث ایک اضطراری حق ہے۔اس لیے کوئی شخص اپنی  طرف سے اس حق کو ختم نہیں کرسکتا۔اگر باپ کسی بیٹے کو عاق کرے تو اس سے وہ میراث سے محروم نہ ہوگا۔چنانچہ عاق شدہ بیٹا بھی میراث کا حقدار ہوگا۔تاہم اگر باپ نے زندگی میں اپنی سب جائیداد اور مال ودولت دوسرے ورثا میں تقسیم کرکے ان کو قبضہ دے دیا ہو۔اور عاق کردہ بیٹے کو کچھ بھی نہ دیا ہو تو پھر باپ کے مرنے کے بعد عاق شدہ بیٹے کو مطالبہ کا حق نہیں۔نیز وارث کے حق میں وصیت واجب العمل نہیں۔شریعت نے ورثا کے لیے  حصے مقرر کیے ہیں اس لیے وارث کے حق میں وصیت شرعا معتبر نہیں۔

صورت مسئولہ کے مطابق باپ کا کسی بیٹے کے خلاف ایسا عاق نامہ لکھنا جس میں وہ موت کے بعد وراثت سے محروم رہے جائز  نہیں اور نہ اس کی وجہ سے بیٹا محروم ہوتا ہے۔اسی طرح بیٹے کے لیے وصیت نامہ لکھنے کی کوئی حیثیت نہیں جب تک دوسرے ورثا  اس کو جائز قرار نہ دیں۔

الارث جبریی لا یسقط بالاسقاط۔(تکملۃ ردالمحتار،کتاب الدعوی ج11 ص678)

(ولا تجوز لوارثہ)لقولہ علیہ السلام "ان اللہ اعطی کل ذی حق حقہ،الا لا  وصیۃ للوارث"ولانہ یتاذی البعض بایثار البعض ففی تجویزہ قطعیۃ الرحم۔(الھدایۃ ج4ص640،639)


فتویٰ نمبر : 4516/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں