بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مرغیوں کو ذبح کرنے کے بعد گرم پانی میں ڈبونا


سوال

ہمارے ہاں  دیسی مرغیوں کو ذبح کرنے کے بعد اس  طرح صاف کرتے ہیں کہ پہلے پانی گرم کرکے  اس میں مرغی تھوڑی دیر کے لیے رکھتے ہیں تاکہ اس کے پر آسانی سے نکالے جائیں اس مسئلے کے بارے میں زید کا موقف ہے کہ اگر الائش اس کے اندر موجود ہو اور گرم پانی کے اندر ڈال دیا جائے تو پھر اس کا کھانا جائز نہیں کیونکہ وہ الائش کی ساری غلاظت گوشت میں سرایت کر جاتی ہے  جب کہ بکر کا موقف یہ ہے کہ بلا کراہت گرم پانی میں صاف  کردہ مرغی کا کھانا جائز ہے کیونکہ پانی اتنا  گرم  نہیں ہوتا کہ وہ اندر کے الائش کو مرغی کے گوشت میں پھلائے۔

جواب

ذبح کے بعد الائش دور کیے بغیر مرغی کو اگر ایسے گرم پانی میں تھوڑی دیر کی لیے ڈبو دیا جائے کہ اس کا درجہ حرارت جوش اور غلیان تک پہنچاہوا نہ ہو اور گرم پانی کا اثر صرف چمڑے تک محدود رہے تاکہ پر آسانی سے نکالے جائیں ،لیکن اندرونی گوشت تک اس کی گرمائش نہ پہنچنے پائےتو ایسی صورت میں مرغی کا کھانا بلا کراہت جائز ہے ۔لیکن اگر پانی ابلنے کی حد تک گرم ہو اور اس پانی کے اندر مرغی اتنی دیر تک پڑی رہے کہ اس کے نتیجے میں نجاست گوشت کے اندر سرایت کرجانے کا غالب گمان ہو جائے تو ایسی مرغی کا کھانا جائز نہیں ۔

وكذا دجاجة ملقاة حالة على الماء للنتف قبل شقها فتح  قال في الفتح : إنها لا تطهر أبدا لكن على قول أبي يوسف تطهر ، والعلة - والله أعلم - تشربها النجاسة بواسطة الغليان ، وعليه اشتهر أن اللحم السميط بمصر نجس ، لكن العلة المذكورة لا تثبت ما لم يمكث اللحم بعد الغليان زمانا يقع في مثله التشرب والدخول في باطن اللحم ، وكل منهما غير محقق في السميط حيث لا يصل إلى حد الغليان ، ولا يترك فيه إلا مقدار ما تصل الحرارة إلى ظاهر الجلد لتنحل مسام الصوف ، بل لو ترك يمنع انقلاع الشعر۔(ردالمحتار على الدر المختار كتاب الطهارة باب الانجاس ، مطلب في تطهير الدهن ج1 ص544)

 


فتویٰ نمبر : 8727/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں