بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

پینٹ شرٹ والے سکول میں بچوں کو داخل کرانا


سوال

زید کے علاقے میں جو سکول ایسے ہیں  کہ انمیں یونیفارم شلوار اور قمیص ہے ان سکولوں میں تعلیمی معیار اور تربیتی معیار ان سکولوں کی بنسبت کمزور ہے جن میں یونیفارم پینٹ شرٹ ہے تو ایسی صورت میں اپنے بچوں کو پینٹ شرٹ والے سکولوں میں داخل کرانا کیسا ہے ۔

جواب

شریعت مطہرہ میں لباس کے اصول متعین کر دیے گئے ہیں جو بھی لباس ان اصول کے مطابق ہو اسے پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں جن میں سے ایک اصول یہ بھی ہے کہ  تشبہ بالکفار اور تشبہ بالفساق کو ممنوع قرار دیا گیا ہے ۔ جہاں تک پینٹ شرٹ پہننے کا مسئلہ ہے تو اگر چہ اج کل پینٹ شرٹ زیادہ تر غیر مسلم ممالک میں رائج ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ بعض مسلم ممالک میں بھی اس کا استعمال بکثرت رائج ہو چکا ہے اس لیےیہ غیر مسلموں کا مذہبی شعار نہیں تاہم جس معاشرہ میں اس کو مغربی لباس سمجھا جاتا ہو وہاں اس سے اجتناب بہتر اور مستحسن ہے

صورت مسئولہ میں ایسے سکول جن میں یونیفارم شلوار اور قمیص ہے اور ان سکولوں میں تعلیمی اور تربیتی معیار ان سکولوں کی بنسبت کمزور ہو جن میں یونیفارم پینٹ شرٹ ہے اور اس پینٹ شرٹ والے سکول کے علاوہ اور کوئی معیاری سکول نہ ہو تو ایسی صورت میں بچوں کو پینٹ شرٹ والے سکول میں داخل کرانے کی گنجائش ہے ۔

قال اللہ تبارك تعالى: يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ۔   (سورة الاعراف آيت 26)

لبس الثياب الجميلة مباح إذا لم يتكبر وتفسيره أن يكون معها كما كان قبلها(الفتاوى الهندية كتاب الكراهية،الباب التاسع في اللبس ج5ص385)


فتویٰ نمبر : 4513/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں