بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

تعزيت کی جگہ میں تلاوت کرنا


سوال

ہمارے بعض علاقوں میں یہ رواج ہے کہ جب فوتگی ہو جاتی ہے تو پھر لوگ گھر یا مسجد میں تین دن تک مسلسل تعزیت کے لیے بیٹھتے ہیں پھر جو لوگ دعا کے لیے آتے ہیں تو دعا سے پہلے تلاوت کرتے ہیں اور ایک قاری صاحب کو خاص طور پر بٹھایا ہوتا ہے کہ جب کوئی دعا کے لیے آئے تو وہ ایک سورت کی تلاوت کرے گا کیا احادیث یا فقہ کی کتابوں میں اس عمل کا ثبوت ملتا ہےیا نہیں ؟

جواب

 فطری اور بشری تقاضوں کی بنیاد پر فوتگی ہو جانے سے پسماندگان کو بڑاغم اور صدمہ لاحق ہوتا ہے ایسی صورت میں میت کے گھر جاکر اس کے ورثا کو صبر کی تلقین کرنا ،میت کے لیے دعا کرنا ،اور ہمدردی کا اظہار کرنا سنت رسول ﷺ سے ثابت ہے تعزیت کی بنیادی مقصد غمزدہ خاندان کو تسلی دلانا ہوتا ہے تو جس طریقہ سے بھی تسلی دی جاسکتی ہے وہ جائز ہے کیونکہ لوگوں کے احوال اور مزاج مختلف ہوتےہیں علاقائی عرف کے مطابق اگر کوئی اظہار ہمدردی کرے تواس میں کوئی قباحت نہیں البتہ اس کا لحاظ ضروری ہے کہ تعزیت کے دوران کوئی خلاف شرع کام سر زد نہ ہو اور کسی غیر لازم کام کو لازم نہ سمجھا جائے جہاں تک ایصال ثواب کی نیت سے تلاوت کا تعلق ہے تو میت کے لیے ایصال ثواب تلاوت کی شکل میں جائز ہے تاہم تعزیت میں تلاوت کو لازمی سمجھنا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ میں کسی شخص کے فوت ہو جانے کے بعد اس کے قریبی رشتہ داروں کا تعزیت کے لیے تین دن تک بیٹھنا اور لوگوں کا تعزیت کرنا جائز ہے اجتماعی طور پرتلاوت کرنے اور دعا مانگنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے تاہم اس طریقہ کا ر کو سنت کا درجہ نہ دیا جائے اور اس کو لازمی اور ضروری بھی نہ سمجھاجائے چنانچہ اگر کہیں اس کو لازمی اور ضروری سمجھا جاتا ہو اور اس طریقہ کار کے مطابق تعزیت نہ کرنے والوں کو ملامت کیا جاتا ہوتو ایسی صورت میں اس طریقہ کار کو ترک کرنا لازم ہوگا ۔

والتعزية أن يقول : أعظم الله أجرك ، وأحسن عزاءك ، وغفر لميتك ۔(رد المحتار على الدر المختار كتاب صلوٰۃ الجنائزمطلب في دفن الميت ج3ص147 )

ولا بأس لأهل المصيبة أن يجلسوا في البيت أو في مسجد ثلاثة أيام والناس يأتونهم ويعزونهم۔(الفتاوى الهندية كتاب الجنائز فصل في التعزية ج1ص 228)

صرح علماؤنا في باب الحج عن الغير بأن للإنسان أن يجعل ثواب عمله لغيره صلاة أو صوما أو صدقة أو غيرها كذا في الهداية ، بل في زكاة التتارخانية عن المحيط : الأفضل لمن يتصدق نفلا أن ينوي لجميع المؤمنين والمؤمنات لأنها تصل إليهم ولا ينقص من أجره ۔۔۔وأنه لا فرق بين الفرض والنفل ۔(ردالمحتار على الدرالمختار باب الجنازة،مطلب في القراءة للميت واهداء ثوابها له ج3 ص151 ،152)

ولأن ذكر الله تعالى إذا قصد به التخصيص بوقت دون وقت أو بشيء دون شيء لم يكن مشروعا حيث لم يرد الشرع به لأنه خلاف المشروع ۔(البحر الرائق كتاب الصلاة باب صلاة العيدين ج2ص279)


فتویٰ نمبر : 8722/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں