بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

رضاعی ماموں کے ساتھ نکاح کرنا


سوال

ایک عورت نے کسی دوسری عورت کی دو بیٹیوں میں سے کسی ایک کو دودھ پلایا ہے اب دودھ پلانے والی عورت اپنے بھائی کے لیے ان دو لڑکیوں میں سے کسی ایک لڑکی کا رشتہ مانگتی ہے کیا دودھ پلانے والی عورت کے بھائی کا نکاح ان مذکورہ دو لڑکیوں میں کسی ایک کے ساتھ جائز ہے یانہیں اگر جائز ہے تو کس لڑکی کے ساتھ جائز ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ کوئی بچہ یا بچی جب مدت رضاعت میں کسی عورت کا دودھ پی لے تو وہ عورت اس کی رضاعی ماں بن جاتی ہے اس کا شوہر رضاعی باپ بن جاتا ہے اور اس کا بھائی رضاعی ماموں بن جاتا ہے پھر جس طرح حقیقی ماموں کے ساتھ نکاح جائز نہیں اسی طرح رضاعی ماموں کے ساتھ نکاح کرنا بھی جائز نہیں لہذا صورت مسئولہ میں جس بچی نے دودھ پیا ہے ا س کے لیے اپنی رضاعی ماں کے بھائی کے ساتھ نکاح کرنا حرام  ہے اور یہ حرمت اس کے دوسرے بہن بھائیوں کی طرف متعدی نہیں ہوتا اس لیے اس لڑکی کی دوسری بہن اس آدمی سے نکاح کرسکتی ہے بشرطیکہ حرمت کی کوئی اوروجہ نہ ہو ۔

عن علي بن أبي طالب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم إن الله حرم من الرضاع ما حرم من النسب- ۔(سنن الترمذي كتاب الرضاع باب ما جاءيحرم من الرضاع ما يحرم من النسب ج3ص450)

وحاصله ان الرضيع تحرم اولاده وان سفلو على المرضعة ،وزوجها لثبوت الجزئية الرضاعية ۔۔۔ولا تحرم اصوله عليهما ولا غيرهم من اقربائه   ۔(عمدة الرعايةحاشية  شرح الوقاية كتاب الرضاعة بيان المحرمات من الرضاع ج3ص214)


فتویٰ نمبر : 6178/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں