بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مستعفی مدرس کے شعبان اور رمضان کے مہینے کی تنخواہ کا حکم


سوال

میں تقریبا ً تین سال قبل ایک مدرسہ میں مدرس کے طور پر فائز ہوا اور یہ سلسلہ تین سال تک جاری رہا ۔ ہر سال چھٹیوں کے تین مہینوں کی تنخواہ عام مدارس اور وفاق المدارس کے دستور کے مطابق ملتی تھی ۔پچھلے سال رجب کی دس یا بارہ تاریخ کو مدرسہ میں دستار بندی ہوئی دستار بندی تک تدریس کے فرائض سرانجام دیتارہا اس کے چند دن بعد مدرسے کے مہتمم صاحب کی طرف سے مجھے استعفی مل گیا ۔اب عرض یہ ہے کہ چھٹیوں کی تین مہینوں(رجب ، شعبان، رمضان ) کی تنخواہ کا لینے کا میرا حق بنتا ہے یا نہیں جیسا کہ عام مدارس کا عرف اور وفاق المدارس کا دستور بھی ہے ۔

جواب

دینی مدارس میں تعطیلات کی تنخواہوں کا دارومدار عرف اور معاہدہ پر ہے اگر مدرسین کے ساتھ سالانہ کے بنیاد پر معاہدہ ہوا ہو تو پھر شعبان اور رمضان کی تنخواہ اساتذہ کرام کو دی جائے گی اگر سالانہ معاہدہ نہ ہو تو پھر عرف یا مدرسے کے ضابطے کے مطابق مدرسین ایام تعطیلات کی تنخواہ کے مستحق ہوں گے تاہم اگر مدرس اپنی طرف سےاستعفا پیش کرے یا ادارے کی طرف سےکسی معقول عذر کی بنا پر مستعفی کیا جائے تو پھررخصتی کے بعد والی ایام تعطیلات کی تنخواہ کا حقدار نہیں ہوگا ۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر سائل کے ساتھ درسی سال کا معاہدہ ہو چکا ہو تو وہ رجب ، شعبان ،اور رمضان کی تنخواہ کا مستحق ہوگا تاہم اگر معاہدے میں اس بات کی تصریح ہوئی ہو کہ ایام تعطیلات کی تنخواہ نہیں دی جائے گی تو وہ رجب ، شعبان اور رمضان کی تنخواہوں کا حقدار نہیں اور اگر بغیر کسی عذر کے اس کو مستعفی کر دیا گیا ہو جب کہ معاہدہ میں تعطیلات کی تنخواہ کا استثنا نہ ہو تو عام  مدارس کے عرف کے مطابق سائل بھی ایام تعطیلات (رجب ، شعبان ،رمضان )کی تنخواہوں کا حقداررہے گا ۔

وَمِنْهَا الْبَطَالَةُ فِي الْمَدَارِسِ،كَأَيَّامِ الْأَعْيَادِ وَيَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَشَهْرِ رَمَضَانَ فِي دَرْسِ الْفِقْهِ لَمْ أَرَهَا صَرِيحَةً فِي كَلَامِهِمْ . وَالْمَسْأَلَةُ عَلَى وَجْهَيْنِ: فَإِنْ كَانَتْ مَشْرُوطَةً لَمْ يَسْقُطْ مِنْ الْمَعْلُومِ شَيْءٌ ، وَإِلَّا فَيَنْبَغِي أَنْ يَلْحَقَ بِبَطَالَةِ الْقَاضِي۔۔۔ فَقَالَ فِي الْمُحِيطِ : إنَّهُ يَأْخُذُ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ ؛ لِأَنَّهُ يَسْتَرِيحُ لِلْيَوْمِ الثَّانِي.وَقِيلَ : لَا يَأْخُذُ ( انْتَهَى ) . وَفِي الْمُنْيَةِ : الْقَاضِي يَسْتَحِقُّ الْكِفَايَةَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ فِي الْأَصَحِّ ، وَاخْتَارَهُ فِي مَنْظُومَةِ ابْنِ وَهْبَانَ ، وَقَالَ : إنَّهُ الْأَظْهَرُ فَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ فِي الْمَدَارِسِ ؛ لِأَنَّ يَوْمَ الْبَطَالَةِ لِلِاسْتِرَاحَةِ(الاشباه والنظائر، المبحث الثاني القاعدة السادسة العادة محكمةج1ص96)


فتویٰ نمبر : 2749/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں