بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

کھیر بنانے کی منت ماننا


سوال

ایک شخص کا کاروبارصحیح نہیں تھا جسکی وجہ سے اس کی ماں نے یہ منت مانی کہ وہ ہرسال صفر کے آخری بدھ کو کھیر بنائے گی ،اور اس کے مرنے کے بعد ان کی اولاد ہمیشہ ہر سال صفر کے آخری بدھ پر یہ منت دے گی پھر اس منت کو پچھلے پینتیس (35) سے پورا کیا جارہا ہے اور اس پر دعا کی جاتی ہے اور منتیں اٹھائی جاتی ہیں ۔ لیکن ساتھ ہی ا س پر بہت سے لوگوں کو بلایا جاتا ہے جو اس کو کھا کر منت اٹھاتے ہیں اور اس کھیر پر ہزاروں روپے کا خرچہ کیا جاتا ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کھیر کو گھر سے باہر نہیں لیکر جایا جاتا جو کھائے گا اس کا اسی گھر میں آنا ضروری ہے اور وہیں بیٹھ کر کھانا بھی ۔ اور اس کھیر کو ہر حال میں اسی دن بنا کر منت دینا لازمی بلکہ فرض اور واجب کا درجہ دیا جاتا ہے ۔ آیا اب اس منت کو پورا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ یا اس کو ایک ہی بار پوری کر لینے سے منت پوری ہوگئی یا تاحیات آنے والی نسلوں کو اس منت کو ہر سال اسی خاص دن دینا ضروری ہوگا ؟

جواب

حنفیہ کے ہاں ہر وہ جملہ جس سے نذر شدہ چیز کا التزام سمجھ میں آجائے مثلا میں اللہ تعالی کے لیے فلاں چیز کی نذر مانتا ہوں یا اللہ تعالی کے لیے یہ فلاں کام یا چیز مجھ پر واجب ہے وغیرہ ایسے الفاظ سے نذر کا انعقاد ہوجاتا ہے اور اس کو پورا کرنا واجب ہے ، تاہم یہ ضروری ہے کہ جس چیز کی نذر مانی جارہی ہےوہ دوسرے کے ملکیت میں نہ ہو ، چنانچہ دوسرے شخص کے مال میں نذر ماننا درست نہیں ۔ 

  صورت مسئولہ میں عورت کا کھیر کی نذر ماننا صحیح ہے اور اس کو پورا کرنا ضروری ہے ۔ تاہم عورت کا یہ کہنا کہ "اس کے مرنے کے بعد ان کی اولاد ہمیشہ ہر سال صفر کے آخری بدھ پر یہ منت دے گی " یہ دوسرے کے مال میں نذر ماننا ہے جو کہ صحیح نہیں لہذا عورت کی اولاد پر اس نذر کو پورا کرنا واجب نہیں ۔

(2) صفر کے مہینے میں اور خاص اسی گھر میں ہونا ضروری نہیں ، بلکہ  جب اور جہاں بھی ادا کرے گی منت پوری ہوگی ۔

(3) چونکہ عورت نے ہر سال صفر میں منت مانی ہے لہذا ایک دفعہ سے یہ  منت پوری نہیں ہوگی۔

(4)عورت اپنی زندگی میں یہ منت دے گی لیکن تاحیات  آنے والی نسلوں پر اس منت کو پورا کرنا ضروری نہیں ۔

وقال من نَذَرَ وَسَمَّى فَعَلَيْهِ وَفَاؤُهُ بِمَا سَمَّى إلَّا أَنَّهُ خُصَّ منه الْمُسَمَّى الذي ليس بقربه أَصْلًا وَاَلَّذِي ليس بِقُرْبَةٍ مَقْصُودَةٍ فَيَجِبُ الْعَمَلُ بِعُمُومِهِ فِيمَا وَرَاءَهُ۔۔۔۔رِ أَمَّا الْأَوَّلُ فَرُكْنُ النَّذْرِ هو الصِّيغَةُ الدَّالَّةُ عليه وهو قَوْلُهُ لِلَّهِ عز شَأْنُهُ عَلَيَّ كَذَا أو على كَذَا أو هذا هَدْيٌ أو صَدَقَةٌ أو مَالِي صَدَقَةٌ أو ما أَمْلِكُ صَدَقَةٌ وَنَحْوُ ذلك۔۔۔وَلَنَا أَنَّ الْمَقْصُودَ وَالْمُبْتَغَى من النَّذْرِ هو التَّقَرُّبُ إلَى اللَّهِ عز وجل فَلَا يَدْخُلُ تَحْتَ نَذْرِهِ إلَّا ما هو قُرْبَةٌ وَلَيْسَ في عَيْنِ الْمَكَانِ وَإِنَّمَا هو مَحَلُّ أَدَاءِ الْقُرْبَةِ فيه فلم يَكُنْ بِنَفْسِهِ قُرْبَةً فَلَا يَدْخُلُ الْمَكَانُ تَحْتَ نَذْرِهِ فَلَا يَتَقَيَّدُ بِهِ فَكَانَ ذِكْرُهُ وَالسُّكُوتُ عنه بِمَنْزِلَةٍ

 وَإِنْ كان مُضَافًا إلَى وَقْتٍ بِأَنْ قال لِلَّهِ عَلَيَّ أَنْ أَصُومَ رجب  أو أُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ يوم كَذَا أو أَتَصَدَّقَ بِدِرْهَمٍ في يَوْمِ كَذَا فَوَقْتُ الْوُجُوبِ في الصَّدَقَةِ هو وَقْتُ وُجُودِ النَّذْرِ في قَوْلِهِمْ جميعا حتى يَجُوزَ تَقْدِيمُهَا على الْوَقْتِ بِلَا خِلَافٍ بين أَصْحَابِنَا(بدائع الصنائع ،کتاب النذر،ج 6ص419)

فلونذر التصدق بالف ولا یملک الا مائۃ  لزمہ المائۃ (ردالمحتار ج5ص265)


فتویٰ نمبر : 8721/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں