بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 15/08/2026

دارالافتاء

 

بیوی کو تین مرتبہ "میں نے تمہیں طلاق دے دی ہے"کہنےکاحکم


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک شخص اپنی بیوی سے تین مرتبہ یہ کہے کہ"میں نے تمھیں طلاق دے دی ہے"تو اس کا کیا حکم ہے؟ کیا یہ عورت کسی اور جگہ نکاح کرسکتی ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ نے شوہر کو تین طلاقوں کا اختیاردیا ہے۔لہذا جب کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دےدے تو بیوی حرمت مغلظہ کے ساتھ اس پر حرام ہوجاتی ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق جو شخص اپنی بیوی سے مذکورہ الفاظ"میں نے تجھے طلاق دے دی ہے"تین بار کہہ دے تو ان الفاظ کی وجہ سے اس کی بیوی اس پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوجائیگی۔اس کے بعد وہ عورت عدت گزار کر  اپنی خوشی اور رضا سے کسی دوسرے مرد سےنکاح کرسکتی ہے۔

وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ(البقرہ:232)

وان کان الطلاق ثلاثا في الحرۃ،او ثنتین في الامۃ لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ نکاحا صحیحاویدخل بھا ثم یطلقھا۔(الھدایة،کتاب الطلاق،ج2ص409)


فتویٰ نمبر : 6176/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں