بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے فنڈ سے امام،مؤذن یا خادم کا علاج


سوال

مسجد کے امام ،مؤذن یا خادم میں سے کوئی شدید بیمار ہو اور ان کی مالی حالت کمزور ہو تو کیا مسجد کی انتظامیہ مسجد کے فنڈ سے ان کے علاج کے لیے رقم دے سکتی ہے؟

جواب

مسجد کے فنڈ میں جمع شدہ رقم مسجد کے مصالح اور مسجد کی تعمیر ہی میں خرچ کی جائے گی مسجد کا چندہ کسی ایسی جگہ لگانا جس کا تعلق مسجد کی تعمیر یا مسجد کے مصالح سے نہ ہو ،جائز نہیں۔

مسجد کے امام ،مؤذن اور خادم کے علاج کے لیے مسجد کے فنڈ سے رقم خرچ کرنا جائز نہیں البتہ اگر چندہ دہندگان اس بات کی اجازت دے دیں کہ اس فنڈ سے امام صاحب ،مؤذن یاخادم کا علاج و معالجہ بھی کیا جائے توپھر شرعا اس میں کوئی قباحت نہیں۔

الذي يَبْدَأُ من ارْتِفَاعِ الْوَقْفِ عِمَارَتُهُ شَرَطَ الْوَاقِفُ أَمْ لَا ثُمَّ ما هو أَقْرَبُ إلَى الْعِمَارَةِ وَأَعَمُّ لِلْمَصْلَحَةِ كَالْإِمَامِ لِلْمَسْجِدِ وَالْمُدَرِّسِ لِلْمَدْرَسَةِ يُصْرَفُ إلَيْهِمْ بِقَدْرِ كِفَايَتِهِمْ۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الوقف،ج2،ص368)

وإذا أَرَادَ أَنْ يَصْرِفَ شيئا من ذلك إلَى إمَامِ الْمَسْجِدِ أو إلَى مُؤَذِّنِ الْمَسْجِدِ فَلَيْسَ له ذلك إلَّا إنْ كان الْوَاقِفُ شَرَطَ ذلك في الْوَقْفِ۔(الفتاوی الھندیۃ،ج2،ص463)


فتویٰ نمبر : 4498/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں