بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کے فنڈ سے نمازیوں کے لیے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرنا


سوال

مسجد میں نمازیوں کے لیے ٹھنڈے پانی کا انتظام کرنے کے لیے مسجد کے عام فنڈ(جس میں مسجد کی دکانوں کا کرایہ بھی شامل ہے)سے ٹھنڈے پانی کی مشین خریدنا جائز ہے یانہیں؟

جواب

عموما مساجد میں عوام سے   جو چندہ  جمع کیا جاتا ہے وہ مسجد کے مصالح ہی کے لیے ہوتا ہے لہذا اس کو مسجد کی ضروریات ومصالح میں خرچ کرنا ضروری ہے۔مسجد کی ضروریات و مصالح کے علاوہ میں اس کا خرچ جائز نہ ہوگا۔اورضروریات و مصالح کی تعیین میں عرف کا اعتبار کیا جائے گا ۔مسجد میں نمازیوں کے لیے ٹھندے پانی کا انتظام چونکہ آج کل کے عرف میں مساجد کی ضروریات میں شمار کیا جاتا ہے لہذا مسجد کے فنڈ سے نمازیوں کے لیے ٹھنڈے پانی کی مشین کا انتظام کرنا جائز  ہے۔

يبدأ  من غلته بعمارته ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم إلى قدر كفايتهم۔(الدرالمحتار علی الدرالمختار،ج4،ص367)

لو وقف علی المصالح فھی للامام والخطیب والقیم وشراءالدھن والحصیر والمراوح۔(شرح الاشباہ والنظائر،کتاب الوقف،ج2،ص100)


فتویٰ نمبر : 4499/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں