بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
طلاق کو" کال" کے ساتھ معلق کیا اور پھر "مس کال" کی
سوال
شوہر نے بیوے سے کہا کہ "اگر تم نے مجھے کال کی تو تجھے طلاق "اب اگر وہ میسج کرے گی تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟
(2) صورت مسئولہ میں اگر مرد خود بیوی کو کال کرے تو طلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟
(3)اور اگر بیوی کال کرے لیکن مرد ریسیو نہ کرے بلکہ مس کال بن جائے تو کیا حکم ہے ؟
(4) اسی طرح اگر مرد بیوی سے کہے کہ " اگر تم نے مجھے مس کال کی تو تجھے طلاق " اب اگر بیوی بات کرنے کی نیت سے کال کرے لیکن مرد ریسیو نہ کرے تو کیا حکم ہے ؟
(5) اگر مرد طلاق کو مس کال کے ساتھ معلق کرے اور بیوی فون ملائے جسے مرد ریسیو کر کے بات کرے توطلاق واقع ہوگی یا نہیں ؟
جواب
اگر کوئی شخص طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرے تو جب بھی شرط پائی جائے گی طلاق واقع ہوگی ۔
(1)صورت مسئولہ میں اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ "اگر تم نے مجھے کال کی تو تجھے طلاق " تو اس کے بعد اگر بیوی خاوند کو کال کرے گی تو طلاق واقع ہوگی ۔تاہم صرف میسج سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔
(2)صورت مسئولہ میں اگر خاوند خود کال کرے تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔
(3)اگر بیوی کال کرے لیکن مرد ریسیو نہ کرے بلکہ مس کال بن جائے تو طلاق واقع ہوگی ۔کیونکہ بیوی نے بہرحال کال کر لی ہے ۔
(4)اگر خاوند نے طلاق کو مس کال کے ساتھ معلق کیا اور بیوی نے بات کرنے کی نیت سے کال کی ،لیکن ریسیو نہ کرنے کی وجہ سے مس کال بن گئی تو طلاق واقع ہوگی ۔
(5)صورت مسئولہ میں اگر خاوند بیوی کی کال کو ریسیو کرے اور بات کرے تو طلاق واقع نہ ہوگی ۔
اذا اضافہ الی الشرط وقع عقیب الشرط اتفاقاً۔(الفتاوی الہندیۃ ،کتاب الطلاق ، الباب الرابع فی الطلاق بالشرط ج1ص 420)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں