بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

1200 آبادی والےگاؤں میں نماز جمعہ پڑھنے کا حکم


سوال

ہمارے گاؤں کی آبادی 1200 نفوس پر مشتمل ہے۔ایک پرائمری اور مڈل سکول موجود ہے۔بازار سے 20 منٹ کی مسافت پر ہے۔ضروریات زندگی کی چیزیں تقریبا ملتی ہیں۔7 مساجد ہیں پکی سڑک کی چیف آف آرمی سٹاف نے منظوری دی ہے جس سے بازار تک کا فاصلہ 8 یا 10 منٹ ہوجائیگا۔گرلز پرائمری سکول اور ڈسپنسری کی منظوری بھی آرمی چیف نے دی ہے۔لہذا آپ صاحبان رہنمائی فرمائیں کہ جمعہ کی نماز جائز ہے یا نہیں؟

جواب

جمعہ کے وجوب ادا کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہےکہ شہر ہو یا شہر کا تابع ہو یا بڑا گاؤں ہو۔دور حاضر میں جس گاؤں یا قصبہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار افراد پر مشتمل ہو اور ضروریات زندگی اس میں میسر ہوں تو اس میں نماز جمعہ واجب ہے۔لیکن جہاں مذکورہ شرائط نہ ہوں وہاں نماز جمعہ پڑھنا درست نہیں۔

صورت مسئولہ میں حسب بیان اگرمذکورہ گاؤں کی کل آبادی صرف 1200 ہوتو یہ بڑا گاؤں نہیں کہلاسکتااس لیے اس میں نماز جمعہ جائز نہیں۔

وتؤدي الجمعۃ في مصر واحد في مواضع کثیرۃ وھو قول ابي حنیفة ومحمد رحمھما اللہ وھو الاصح۔(الفتاوی الھندیۃ ج1 ص145)


فتویٰ نمبر : 8730/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں