بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بینک میں چوکیداری کرنا


سوال

ایک آدمی(عبد اللہ )بے روزگار ہے کوئی آمدنی کا ذریعہ نہیں اور ان کے بیوی اور بچے ہیں ان کو حبیب بینک میں چوکیداری مل رہی ہے آیا ان کو یہ نوکری کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

کسی سودی بینک یا دوسرے سودی ادارے میں ایسی ملازمت  جس میں براہ راست  سود دینے ،لینے ، لکھنے اور گواہ بننے کی ذمہ داری اٹھانی نہ پڑے  شرعاایسی ملازمت اختیار کرنے کی گنجائش ہے  جیسے بینک کا سیکورٹی گارڈ ،ڈرائیور وغیرہ ۔تاہم  چونکہ سودی ادارے کے اندر ملازمت  کچھ نہ کچھ حد تک  تعاون کر نے کے مترادف ہے اس لئے بہتر ہے کہ آدمی   کسی اور جگہ ملازمت تلاش کرے ۔

                صورت مسؤلہ میں اگر سائل معاشی مسائل سے دو چار ہواور کسی اور جگہ ملازمت میسر نہ ہو  تو   اس کو بینک میں چوکیدار بننے کی ملازمت   اختیار کرنا جائز ہے ۔                         

 عن جابر، قال: «لعن رسول الله صلى الله عليه وسلم آكل الربا، ومؤكله، وكاتبه، وشاهديه»، وقال: «هم سواء»۔(الصحيح لمسلم،كتاب البيوع،باب الرباج2/ص27)

ولو استأجر الذمي مسلما ليبني له بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر۔(الفتاوى الهندية،كتاب الاجارة،الباب  السادس عشر في مسائل الشيوع۔۔۔ج4/ص487)


فتویٰ نمبر : 2746/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں