بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/10/2026

دارالافتاء

 

اہل کتاب عورتوں سے نکاح کی اجازت اور یہود و نصاری کے ساتھ دوستی سے ممانعت پر اشکال


سوال

(1)کیا اہل کتاب عورتوں سے نکاح جائز ہے؟(2)اگر جائز ہے تو قرآن میں پھر یہ کیوں کہا گیا کہ یہود ونصاری تمھارے دوست نہیں ہوسکتے۔کیونکہ عقد نکاح تو دوستی کی انتہا ہے۔

جواب

(1(اہل کتاب (عیسائی اور یہودی )عورتوں سے نکاح کرنا  فی نفسہ جائز ہے،لیکن اہل کتاب سے نکاح کرنے میں جو مفاسد اپنے اور اپنی آنے والی نسل کے لیےپیدا ہوتے ہیں ان کی وجہ سے صحابہ کرام اور فقہاء کرام نےاس کومکروہ قرار دیا ہے چنانچہ ایک مرتبہ حضرت حذیفہ بن الیمان  رضی اللہ عنہ نے مدائن میں ایک یہودی عورت سے نکاح کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کومعلوم ہوا تو آپ نے ان کو طلاق دینے کا حکم دیا اور فرمایا کہ میں یہ نہیں کہتا کہ یہودی   عورت سے نکاح حرام ہے  لیکن ان لوگوں کی عورتوں میں عام طور پر  عفت وپاکدامنی نہیں ہوتی اس لیے مجھے خطرہ ہے کہ آپ لوگوں کے  گھرانے میں  بھی  اس راہ سے فحش و بد کاری داخل نہ ہو جائے ۔

(2)   یہود ونصاری یا دوسرے غیر مسلموں کے ساتھ دلی محبت اور قلبی تعلق قرآنی آیات کی روسے ممنوع اور ناجائز ہے۔جہاں تک مسلمانوں کے لیے اہل کتاب عورتوں سے نکاح کا مسئلہ ہے تو شریعت میں اگرچہ اس کا جواز ہے تا ہم ازدواجی رشتہ کی وجہ سے اہل کتاب کے ساتھ اس طرح گہرے قلبی تعلقات اور دلی محبت رکھنا جائز نہیں جو اہل ایمان کی آپس میں مطلوب ہے۔اگرچہ نکاح قلبی تعلق کا متقاضی ہے لیکن یہ ضروری نہیں  کہ جہاں بھی نکاح کا رشتہ ہو وہاں قلبی تعلق بھی ضرور ہوبلکہ بعض اوقات قلبی تعلق کے بغیر بھی یہ رشتہ قائم ہوسکتا ہے اور قائم رہ سکتا ہے۔چنانچہ یہی کیفیت اہل کتاب سے نکاح میں بھی ہونی چاہیے کہ اگر نکاح کا تعلق قائم ہوجائے تب بھی  دلی محبت نہ رکھی جائے۔ 

 قال اللہ تعالی:"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ"و قال الرازی:معنی لا تتخذوھم اولیاء"لا تعتمدوا علی الاستنصار بھم ،ولا تتوددوا الیھم ۔(التفسیر الکبیر للرازی ،ج 12 ص375)

والنکاح مقتض للمودۃ لقولہ تعالی(خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً)قال الجصاص وھذا عندنا انما یدل علی الکراھۃ۔(روح المعانی للعلامہ الالوسی ،ج6 ص66)

الاولیاء الانصار واتخاذ یفید معنی الاصطناع،وھو عبارۃ عن مکاشفتھم بالاسرار الخاصۃ لمصلحۃ الدین بل فیہ اعانۃ للکفر علی الایمان۔(التفسیر الکبیر للرازی ،ج3 ص230)

عن شقيق بن سلمة قال تزوج حذيفة بيهودية فكتب إليه عمر أن خل سبيلها فكتب إليه حذيفة أحرام هي فكتب إليه عمر لا ولكني أخاف أن تواقعوا المومسات منهن قال أبو عبيد يعني العواهر فهذا يدل على أن معنى الإحصان عنده ههنا كان على العفة۔(احکام القرآن للجصاص ج2ص324)


فتویٰ نمبر : 6188/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں