بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

رفاہی اداروں سے مالی امداد لینا


سوال

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک پرایویٹ سکول میاں گل ماڈل سکول ہے جو آباسین این جی یو کےتحت کام کرتا ہے وہ ہمارے علاقے میں ایک خاص قسم کا آٹا اور فروٹ تقسیم کرتےہیں بقول ان کے یہ آٹا بدن میں آئرن کی کمی پورا کرتی ہے جس کے لئے شرط یہ ہے کہ جس گھر کو آٹا دیں گے اس گھر میں ایک  سال سے پانچ سال تک کا ایک لڑکے یا لڑکی اور ایک لڑکی 10سے16 سال تک کی عمر کی ہوگی جس لڑکی کی عمر 10 سال سے 16 سال تک ہو وہ ہر تین ماہ بعد ٹسٹ کے لئے خون اور سر کے تین بال دے گی جس پر یہ لوگ ریسرچ کریں گے بقول ان کے وہ ان میں آئرن کی کمی زیادتی معلوم کرنے کےلئے یہ ٹیسٹ کرتے ہیں تو کیا اس طرح آٹا لینا شرعا درست ہوگا؟

جواب

کوئی بھی رفاہی ادارہ جو عام فلاح وبہبود کے کام کرتا ہو اس سے مالی مدد حاصل کرنا جائز ہے ۔البتہ اگر اس مالی امداد کی آڑ میں وہ ادارہ عقیدہ و مذہب پر حملہ آور ہونے کی کوشش کرتا ہو تو اس صورت میں ان کے مذموم مقاصد کی تکمیل میں معاون بننااور ان سے امداد وصول کرنا جائز نہیں ۔

صورت مسئولہ کے مطابق جو این جی او مخصوص آٹا اور فروٹ تقسیم کر رہا ہے اگر اس کے مقاصد واقعتاً  خیر خواہانہ  ہو ں ملک و مذہب کے حق میں کوئی منفی اور مذموم مقاصد نہ ہو ں تو شرعا ان سے امداد لینے میں کوئی قباحت نہیں ۔تاہم اس آٹے کے بارے میں جو دعوی کیا جارہا ہے  اس کی تحقیق دیانت دارماہرین فن سے کرائی جائے اگر کیمیائی تجزئیے کے بعدوہ اس نتیجے پر پہنچیں کہ اس میں کوئی مضر صحت عنصر  نہیں پایا جاتا  تو اس کا لینا اور استعمال کرنا جائز ہوگا۔ورنہ بصورت دیگر اس کے لینے اور استعمال سے احتراز کیا جائے ۔

ولا بأس بطعام اليهود والنصارى كله من الذبائح وغيرها ويستوي الجواب بين أن يكون اليهود والنصارى من أهل الحرب أو من غير أهل الحرب وكذا يستوي أن يكون اليهود والنصارى من بني إسرائيل أو من غيرهم كنصارى العرب۔(الفتاوى الهندية الباب الرابع عشر ج5ص 401)

وجئنا إلى صلة المشرك المسلم فقد روى محمد رحمه الله تعالى في السير الكبير أخبارا متعارضة۔۔۔۔ومن المشايخ من وفق من وجه آخر فقال لم يقبل من شخص علم أنه لو قبل منه لا يقل صلابته وعزته في حقه ويلين له بسبب قبول الهدية وقبل من شخص علم أنه لا يقل صلابته وعزته في حقه ولا يلين بسبب قبول الهدية كذا في المحيط(الفتاوى الهندية الباب الرابع عشر ج5ص402)


فتویٰ نمبر : 4522/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں