بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

علاقائی کمیٹی برائے انسداد خلاف شرع امور کے چند مسائل


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ علاقہ والئی اور شگئی لکی مروت کے علمائے کرام اور زعمائے علاقہ نے ایک مشورہ کیا ہے جس کا مقصد یہ تھا کہ ہمارے علاقہ میں بعض لوگ شادی بیاہ اور دیگر خوشی کے موقعوں پر بہت افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں ، مثلا: ڈھول باجے ، DJ sound کا انعقاد ، اور ہوائی فائرنگ وغیرہ کرنا ۔ اب ان خلاف شرع امور کی روک تھام کے لئے امر بالمعروف اور نھی عن ا لمنکر کی غرض سے ایک کمیٹی تشکیل پائی ہے جو کہ علمائے کرام کی سرپرستی میں کام کرے گی ، اس کمیٹی کی ذمہ داری یہ ہوگی کہ جو شخص بھی ایسا خلاف شرع کام کرے اس شخص کو مثلا 50,000 پچاس ہزار روپے جرمانہ کیا جائے گا اور اگر وہ شخص جرمانہ ادا کرنے سے انکار کرے تو ایسی صورت میں علاقہ کے تمام لوگ اس شخص سے مکمل قطع تعلقی کرینگے اور جو شخص اس مرتکب شخص سے قطع تعلق نہیں کرے گا اس شخص کو بھی جرمانہ کیا جائے گا۔ بعد از تفصیل چند سوالات مندرجہ ذیل ہیں جن کے جوابات مطلوب ہیں: 1. کیا اس مرتکب شخص سے جرمانہ وصول کرنا درست ہے یا نہیں؟ 2. جرمانہ کی ادائیگی سے انکار کی صورت میں اس شخص سے قطع تعلق کرنا درست ہے یا نہیں؟ 3. اگر کسی نے اس مرتکب شخص سے قطع تعلق نہ کیا تو کیا ایسے شخص سے جرمانہ لینا درست ہے یا نہیں؟ 4. اگر جرمانہ لینا جائز ہے تو کیا جرمانہ کی رقم علاقہ کے مفاد عامہ میں استعمال کی جاسکتی ہے یا نہیں؟ 5. اگر زعمائے علاقہ ، نمائندگان اور عوام بائیکاٹ نہ کریں تو کیا علمائے کرام کا درج بالا چاروں صورتو ں پر عمل کر نا درست ہو گا یا نہیں؟ 6. درج بالا صورتوں پر عمل کرنے سے علاقہ میں لوگوں کے مابین اختلافات کے خدشات ہیں ایسے ہی کمیٹی اور علمائے کرام کے لئے بھی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں لہذا ایسی صورت حال میں یہ کمیٹی بنائی جائے یا علمائے کرام صرف وعظ و نصیحت سے کام لیں؟

جواب

(1)کسی علاقہ میں اگر خلاف شرع امور کا  سرعام  ارتکاب کیا جاتا ہو تو   ان خلاف شرع امور کی روک تھام کے لئے فکر مند رہنا اور  کمیٹی بنانا  ایک مستحسن اقدام ہے لیکن کمیٹی کے ارکان کو ایسا طریقہ وضع کرنا چاہئے جس سے جرائم کی روک تھام بھی ہو جائے اور شرعی  اصول و قوانین کی خلاف ورزی بھی لازم نہ آئے کیونکہ بعض جرائم کی سزائیں تو  ایسی ہیں جو متعین ہیں ،  مثلا:چوری ، زنا وغیرہ جن کو حدود کہا جاتا ہے جو حاکم وقت کے علاوہ کوئی نافذ نہیں کر سکتا  ، حدود کے علاوہ جو سزائیں  ہیں ان کو تعزیرات کہا جاتا ہے ۔ تعزیرات میں بعض بدنی سزائیں ہیں اور بعض مالی سزائیں  ان کے نفاذ کا اختیار بھی حاکم وقت  کے پا س ہے البتہ تعزیر بالمال جس کو  جرمانہ کہا جاتا ہے اگرچہ  اکثر فقہاء کرام  نے اس کو ناجائز قرار دیا ہے لیکن امام ابویوسفؒ اس کے جواز کے قائل ہیں  ،انہوں نے شرائط کے تحت اس کو جائز قراردیا ہے ۔ اس کا ا ختیار قاضی کے پاس ہے چنانچہ  موجودہ دور میں اگر علاقہ کا  انتظامی افسر یا  فریقین کے مابین حکم/ثالث مالی جرمانہ کا اجراء کرے تو گنجائش ہوگی البتہ علاقائی سطح پر  انسداد فواحش  کے لئے بنائی گئی کمیٹی  کو  یہ حق حاصل نہیں کہ وہ   گناہ کے مرتکب شخص سے مالی جرمانہ وصول کرے۔

(2،3)غیر شرعی امور    پر مصر شخص   سے اچھا رویہ اختیار  رکھنا دینی غیرت و حمیت کے خلاف  اور اس کی حمایت کے مترادف ہے لہذا     اگر کوئی اور  طریقہ کارگر ثابت نہ  ہو  تو ایسے شخص سے بہ نیت اصلاح قطع تعلقی جائز ہے تاکہ خلاف شرع امور سے اجتناب کرنے پر مجبور ہوجائے تاہم  یہ  قطع تعلقی کرنا کوئی امر واجب  نہیں کہ اس کی خلاف ورزی کرنے   والے کو  سزا دی جائے چنانچہ معصیت پر مصر شخص سے قطع تعلقی نہ کر نے پر کسی شخص کو نہ سزا دی جا سکتی ہے اور نہ ہی مالی جرمانہ وصول کیا جاسکتا ہے۔

(4)   مذکورہ بالا تفصیل میں  امام ابو یوسف ؒ کے قول کے مطابق جہاں مالی جرمانہ کی راہ اختیار کرنے کی گنجائش دی گئی ہے  اس  سے مراد یہ ہے کہ مجرم سے مالی جرمانہ   وصول کر کے ایک  مناسب مدت تک اپنے پاس رکھا جائے جب مجرم جرم سے توبہ کر لے  تو یہ رقم اسے واپس کر دی جائے  ۔

(5) غیر شرعی امور    پر مصر شخص   سے اچھا رویہ رکھنا ایمانی غیرت کے خلاف ہے  چنانچہ اگر  زعمائے علاقہ اور اہل علاقہ     ایسے شخص سے  قطع تعلقی نہ کریں   تو علماء کرام کو چاہئے کہ بہ نیت اصلاح قطع تعلقی کریں  لیکن جھاں کہیں  اندیشہ ہو کہ قطع تعلقی سے  وہ شخص مزید معصیت میں مبتلا ہوگا   تو ایسی صورت میں  کوئی اور مصلحت کی راہ اختیار کی جائے۔

(6)  مذکورہ بالا تفصیل اس صورت میں ہے جہاں  ان امور پر تمام علاقے والے متفق ہوں چنانچہ  قطع تعلقی یا  کسی اور سزا کی  صورت میں  مزید فسادات ، دشمنی وغیرہ کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں  یہ کمیٹی تشکیل نہ دی جائے بلکہ علماء کرام  وعظ و نصیحت کے ساتھ ساتھ انفرادی محنت کا سہارا لیں  انشاءاللہ یہ عمل مؤثر و کارگر ثابت ہوگا۔

 قال الملا علی القاری تحت حديث: "من رأى منكم منكرا فليغيره بيده، فإن لم يستطع فبلسانه، فإن لم يستطع فبقلبه، وذلك أضعف الإيمان".وقد قال بعض علمائنا الأمر الأول للأمراء والثاني للعلماء والثالث لعامة المؤمنين۔۔۔ ثم اعلم أنه إذا كان المنكر حراما وجب الزجر عنه وإذا كان مكروها ندب والأمر بالمعروف أيضا تبع لما يؤمر به فإن وجب فواجب وإن ندب فمندوب۔  (مرقاة المفاتيح، كتاب الآداب ،  باب الأمر بالمعروف و النهي عن المنكر ، 15/3)

بيان ما يجوز من الهجران لمن عصى وقال المهلب غرض البخاري من هذا الباب أن يبين صفة الهجران الجائز وأن ذلك متنوع على قدر الإجرام فمن كان جرمه كثيرا فينبغي هجرانه واجتنابه وترك مكالمته۔ (عمدة القاري فى شرح صحيح البخاري ، 368/32)
قال الخطابي رخص للمسلم أن يغضب على أخيه ثلاث ليال لقلته ولا يجوز فوقها إلا إذا كان الهجران في حق من حقوق الله تعالى فيجوز فوق ذلك۔   (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ، بيان ماينهي عنه من التهاجر و التقاطع و اتباع  ،326/14)
ثم ان هجران الممنوع انما هو ما كان لسبب دنيوى اما اذا كان بسبب فسق المرء و عصيانه فاكثر العلماء على جوازه قال الخطابى ۔۔۔  و حاصل ذلك ان الهجران انما يحرم اذا كان من جهة غضب نفسانى اما اذا كان على وجه التغليظ  على المعصية  و الفسق او على وجه التاديب كما وقع مع كعب ابن مالك و صاحبيه  او كما وقع لرسول الله صلى الله عليه و سلم مع ازواجه او لعائشة مع ابن زبير رضي الله عنهم فانه ليس من الهجران الممنوع۔  (تكملة فتح الملهم ، بيان ماينهي عنه من التهاجر و التقاطع و اتباع ، 356,355/5)
وزاد بعض المتأخرين أن الحد مختص بالإمام والتعزير يفعله الزوج والمولى وكل من رأى أحدا يباشر المعصية۔(رد المحتار علی الدر المختار  ، كتاب الحدود ، مطلب فى التعزير بالمال ، 103/6)
التعزير قد يكون بالحبس وقد يكون بالصفع وتعريك الأذن وقد يكون بالكلام العنيف وقد يكون بالضرب وقد يكون بنظر القاضي إليه بنظر عبوس كذا في النهاية وعند أبي يوسف رحمه الله تعالى يجوز التعزير للسلطان بأخذ المال وعندهما وباقي الأئمة الثلاثة لا يجوز كذا في فتح القدير ومعنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنده مدة لينزجر ثم يعيده۔۔۔إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي۔ (الفتاوى الهندية ، كتاب الحدود ، فصل فى التعزير ، 167/2)


فتویٰ نمبر : 4494/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں