بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

فانوس یا بلب پر آیات مبارکہ یا اسمائے حسنٰی لکھنا


سوال

آج کل مساجد میں ایسے روشندان ،فانوس اور بلب لگائے جاتے ہیں جن پر آیات مبارکہ ،لفظ اللہ ،لفظ محمداور ماشاء اللہ وغیرہ لکھا ہو تا ہے ان چیزوں پر ایسا لکھوانا یا ایسی لکھی ہوئی چیزوں کا مسجد میں لگانا کیسا ہے ؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے   بطور علامت کسی کاغذ ،کپڑے یا دوسری چیز پر  اسمائے  باری تعالی ،قرآنی آیت   وغیرہ  لکھنے میں کوئی حرج نہیں  تاہم  جہاں کہیں  ان مبارک کلمات کی بے ادبی کا خدشہ ہو تو ان کے لکھنے سے احتراز ضروری ہے صورت مسؤلہ میں روشندان ،فانوس یا بلب وغیرہ  پر لفظ اللہ ،لفظ محمد یا ما شاء اللہ  وغیرہ لکھنا  جائز ہے  بشر طیکہ ان کی بے ادبی کا خدشہ نہ  ہو ، اسی طرح ان چیزوں کو مسجد میں  لگانے کی بھی گنجائش ہے ۔البتہ جب  یہ  چیزیں  ناقابل استعمال ہو جائیں تو  ان کو کسی ایسی صاف  جگہ میں دفنانا چاہیئے جہاں پر لوگوں کا گزر نہ ہو ۔

 لا بأس بكتابة اسم الله تعالى على الدراهم لأن قصد صاحبه العلامة لا التهاون كذا في جواهر الأخلاطي ولو كتب على خاتمه اسمه أو اسم الله تعالى أو ما بدا له من أسماء الله تعالى نحو قوله حسبي الله ونعم الوكيل أو ربي الله أو نعم القادر الله فإنه لا بأس به۔(الفتاوى الهندية،كتاب الكراهية،الباب الخامس في آداب المسجدج5/ص373)


فتویٰ نمبر : 4496/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں