بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد کی رقم بینک اکاؤنٹ میں رکھنا


سوال

ایک مسجد کے انتظامیہ نے ایک بینک میں مسجد کا کھاتہ کھلوایا ہے  جس میں مسجد کی رقم جمع کی جاتی ہے اور بوقت ضرورت وہیں سے حاصل کی جاتی ہے، مسجد کی رقم بینک میں جمع کرنا کیسا ہے ؟جبکہ ظاہر یہی ہے کہ بینک ہی رقم اپنے استعمال میں لاتا ہو گا ۔

جواب

شرعی نقطہ نظر سے متولی یا مسجد کے انتظامیہ کے ہا تھ میں مسجد کا چندہ امانت کی حیثیت رکھتا ہے  جس کو مسجد کے مصالح میں خرچ کرنا ضروری ہے اور اگر کچھ رقم فی الحال  مسجد کے مصالح  میں استعمال سے  باقی بچ جائے  تو اس کی حفاظت متولی یا مسجد کے انتظامیہ  والوں کی ذمہ داری ہے ۔

         صورت مسؤلہ میں بینک اکاؤنٹ  میں رقم رکھنا اگر چہ فقہی  تکییف کے اعتبا ر سے  قرض کی حیثیت رکھتا ہے اور متولی کیلئے  مسجد کی رقم کسی کو قرض دینا جائز نہیں ،لیکن اگر  مسجد کے انتظامیہ والے ان  رقوم کی حفاظت   بینک کے اکاؤنٹ کے بغیر نہ کر سکتے ہوں  تو حفاظت کی غرض سے   یہ رقوم  بینک اکاؤنٹ میں  رکھے جا سکتے ہیں ۔

أن القيم ليس له إقراض مال المسجد  قال في جامع الفصولين ليس للمتولي إيداع مال الوقف والمسجد إلا ممن في عياله ولا إقراضه فلو أقرضه ضمن وكذا المستقرض وذكر أن القيم لو أقرض مال المسجد ليأخذه عند الحاجة وهو أحرز من إمساكه فلا بأس به  وفي العدة يسع المتولي إقراض ما فضل من غلة الوقف لو أحرز ۔(البحر الرائق ،کتاب الوقف ،ج1/ص401)


فتویٰ نمبر : 4496/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں