بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

چند کتابوں سے متعلق ایک سوال کا جواب


سوال

کیافرماتےہیں علمائے کرام ومفتیان عظام ان کتب کے بارے میں جوالتحقیق المختار ،الاہتداء،عقیدہ ناجیہ کے نام سے ہیں ۔اوران کامصنف عبدالخالق فاتح قادری نامی شخص ہیں جواپنا نسبت علمائے دیوبندکی طرف بھی کررہاہیں۔جس کی وجہ سےدیوبندی عوام میں بڑااختلاف پایاجاتاہیں بعض اس کی تائیدکرتےہیں اور بعض مخالفت کرتےہیں جس کی وجہ سے ہمارے علاقے میں بڑاخلفشاراوراختلاف پایاجاتاہیں۔اس تنازع کی حل کے لئے کتاب کے مسائل دارالافتاء کوبھیجے جارہے ہیں تاکہ اختلاف اورفتنہ ختم ہوجائے۔ کتاب میں درجہ ذیل مسائل لکھے ہوئے ہیں (1)مروجہ میلاد جس میں ہرسال محفلیں منعقدکرنانعت خوانی وغیرہ وغیرہ کرناسب مستحبات سے افضل عمل ہے۔(التحقیق المختار ص 10) (2)اولیاء کےقبروں پرچادریں چڑھانا،چراغیں لگاناجائزہے۔(التحقیق المختار ص 67) (3)اولیاءکےقبروں پرگنبدبناناجائزہے۔(التحقیق المختار ص 66) (4)اولیاء کےقبروں پرچراغیں لگاناجائزعمل ہے۔(التحقیق المختار ص 67) (5)دیوبندی علماء بھی قبروں سےمٹی بطورتبرک لے جاتے ہے۔(التحقیق المختار ص 79) (6)ظہرکی نماز اول وقت میں پڑھناخوارج کی نشانی ہیں۔(التحقیق المختار ص 172) (7)مروجہ اسقاط مستحب ہیں۔اورنہ کرناوہابی کی نشانی ہیں۔(التحقیق المختار ص 263) (8)مروجہ ختم قرآن لایصال جائزہیں خواہ قاری عوض اوراجرت کی شرط لگائے۔توبھی صحیح ہے۔(التحقیق المختار ص 146،147) (9)شعارکی نیت سے یامحمدلکھنااچھاکام ہے۔(التحقیق المختار ص 203) (10)فرض نماز کےبعد اجتماعی دعاچاروں مذاہب کے اجماع سے ثابت ہیں اورسنت بھی ہیں۔(التحقیق المختار ص 40) (11)کھانے کےبعد اجتماعی دعارسول اللہ ﷺ اورصحابہ کامعمول ہے ۔اس لئے کھانے کےبعد اجتماعی دعاکرناسنت ہے۔(التحقیق المختار ص 45) (12)مردہ کودفن کرنےبعد بھی اجتماعی دعاکرناسنت ہیں اورتین دعائیں بھی سنت ہے۔دفن کے بعد اجتماعی دعاکاانکارکرنے والاجاہل اورمتعصب ہیں۔(التحقیق المختار ص 45،47) (13)عرسیں منانایعنی ہرسال اولیاء کرام کی موت کادن منانااورخیراتیں کرنا،جلسے اورمحافل بنانا،نعت خوانی اورتقریریں کرناجائز اورمستحب ہیں۔(التحقیق المختار ص 50) (14)قبروں پرٹہنیاں نصب کرناسنت اورصحابہ کامعمول ہیں۔(التحقیق المختار ص 63) (15)ہرجگہ اجتماعی دعاکرناچاہیے۔(التحقیق المختار ص 36) (16)اللہ مسلمانوں کویہ حکم دیتاہےکہ تم میرے حبیب پرخوشحالی (یعنی میلاد)مناو۔(التحقیق المختار ص 11) (17)مروجہ تبلیغ میں عام شخص کاجانااورتبلیغ کرنااشدحرام ہیں کیونکہ تبلیغ علماء کاکام ہے۔(التحقیق المختار ص 262) (18)اسقاط مستحب ہیں اورنہ ماننے والاوہابی ہے۔(التحقیق المختار ص 140 ،263) (19)صفرکے آخری بدھ کوحضور ﷺ کی بیماری ہلکی ہوئی تھی توصحابہ کرام خوش ہوئے اوراپنی اپنی قدر ت کے موافق صدقہ بھی کیا۔(التحقیق المختار ص 267) (20)یاشیخ عبدالقادرشیئاللہ کاوظیفہ توسل اورتبرک کی نیت سے کہناجائزاورشرعی عمل ہیں۔(التحقیق المختار ص 205) (21)حضورﷺ ذاتانوراوربشرہیں ۔نورانیت اوربشریت دونوں سے انکارکرناگمراہی ہیں۔(عقیدہ ناجیہ ص 32،33) (22)یارسول اللہ اس نیت کہناکہ یہ اہل سنت والجماعت کی شعاراورنشانی ہے جائزاورشرعی عمل ہیں۔(التحقیق المختار ص 203) (23)دفن کے بعد اجتماعی دعاکاانکارکرناجاہل اورمتعصب کاکام ہے۔(التحقیق المختارص 47) (24)اس زمانے کے وہابی باتفاق علماء خوارج ہیں۔(الاہتداء ص 95) (25)اللہ سے ہوتاہیں مخلوق سے کچھ نہیں ہوتا۔یہ بہت خطرناک بات ہیں۔(الاہتداء ص 42) (26)اللہ سے ہوتاہیں مخلوق سےنہیں ہوتا۔یہ عقیدہ خبیثہ ہیں۔(الاہتداء ص 42) (26)ہمارےبعض عوام لوگ یہ کہتے ہیں کہ "اللہ ہرجگہ موجود ہیں"یہ اچھی بات نہیں ہیں۔(الاہتداء ص32) اب صر ف یہ پوچھناہیں کہ ان کتابوں کادیکھنااوران مسائل پرعمل کرنا صحیح ہیں یا نہیں؟اوران مسائل کی نسبت علمائے دیوبندکی طرف کرناصحیح ہیں کہ نہیں؟اورکیامندرجہ بالاکتب کے مصنف کودیوبندی کہناصحیح ہیں یانہیں؟ 

جواب

سوال میں  موجود کتابیں  چونکہ ہمارے پاس موجود نہیں اس لئے ان کے متعلق  کوئی حتمی رائے نہیں دی جاسکتی ۔تاہم اس طرح کے غیر مستند  مسائل  کو بیان کرنے اور اس پر عمل کرنے  سے اجتناب ضروری  ہے ،نیز غیر معروف اورغیر مستند کتابوں کی بجائے  اہل سنت والجماعۃ  علماء دیوبند  کے اکابر علماء  کرام  کی کتابوں  کا مطالعہ کرناچاہئے ۔

{وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِى كُلِّ أُمَّةٍرَسُولاأَنِ اعْبُدُوا اللّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّـاغُوتَ} هو الشيطان وكل ما يدعوا إلى الضلال۔(الجامع لاحكام القرآن ،ج10ص103)

والطاغوت : کل ما یطغی الانسان۔(ایضا ج5 ص249)

عن جابر رضي الله عنه أن عمر بن الخطاب رضوان الله عليه أتى رسول الله صلى الله عليه وسلم بنسخة من التوراة، فقال: يا رسول الله، هذه نسخة من التوراة، فسكت، فجعل يقرأ ووجه رسول الله يتغير، فقال: أبو بكر رحمة الله عليه ثكلتك الثواكل، ما ترى بوجه رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ فنظر عمر إلى وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: أعوذ بالله من غضب الله وغضب رسوله رضينا بالله ربا وبالإسلام دينا وبمحمد نبيا. فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «والذي نفس محمد بيده، لو بدا لكم موسى فاتبعتموه وتركتموني، لضللتم عن سواء السبيل، ولو كان حيا وأدرك نبوتي، لاتبعني»۔(سنن دارمی،باب مایتقی من تفسیر حدیث ج1ص82)


فتویٰ نمبر : 4521/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں