بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

جماعت ثانیہ کا حکم،جماعت ثانیہ سے پڑھی گئی نماز کا اعادہ


سوال

محلے کے کچھ لوگ نماز کے لیے مسجد میں آئے ، جب پہنچے تو نماز باجماعت ہو چکی تھی ، یہ دیکھ کر انہوں نے اسی مسجد میں جس میں ایک دفعہ پیش امام نماز باجماعت پڑھاچکے تھے ، دوبارہ جماعت کرادی ، آیا ان کی نماز ہوگئی یا اعادہ واجب ہے ؟

جواب

  واضح رہے کہ محلے کی مسجدجس  کا  امام  اور مؤذن مقرر ہو اس میں ایک مرتبہ نماز باجماعت ادا ہونے کے بعد کسی کا  جماعت ثانیہ  ہیئت اولی سے پڑھنا مکروہ تحریمی ہے اور جب ہیئت تبدیل کی جائے یعنی بغیر اذان واقامت کے اور محراب یا محاذات محراب سے ہٹ کر ادا کی جائے  تو کراہت تنزیہی کے ساتھ  جائز ہے ، بہتر یہ ہے کہ مسجد کے ساتھ ملحقہ  کمرہ یا مدرسہ  وغیرہ ہو تو اس میں جماعت ثانیہ کر لی جائے ۔ اگرچہ جماعت ثانیہ کا یہ فعل مکروہ ہے تا ہم اس سے نفس نماز  پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، لہذا نماز ہوگئی ہے اعادہ کی ضرورت نہیں ۔

ويكره تكرار الجماعة بأذان وإقامة في مسجد محلة لا في مسجد طريق أو مسجد لا إمام له ولا مؤذن ۔۔۔ثم هذا حيث كان النقصان بكراهة تحريم لما في مكروهات الصلاة من فتح القدير أن الحق التفصيل بين كون تلك الكراهة كراهة تحريم فتجب الإعادة أو تنزيه فتستحب ا هـ أي تستحب في الوقت وبعده أيضا(ردالمحتار مطلب فی تعریف الاعادۃ ج1 ص 65)

بقي هنا شيء وهو أن صلاة الجماعة واجبة على الراجح في المذهب أو سنة مؤكدة في حكم الواجب كما في البحر وصرحوا بفسق تاركها وتعزيره وأنه يأثم ومقتضى هذا أنه لو صلى مفردا يؤمر بإعادتها بالجماعة وهو مخالف لما صرحوا به في باب إدراك الفريضة من أنه لو صلى ثلاث ركعات من الظهر ثم أقيمت الجماعة يتم ويقتدي متطوعا فإنه كالصريح في أنه ليس له إعادة الظهر بالجماعة مع أن صلاته منفردا مكروهة تحريما أو قريبة من التحريم فيخالف تلك القاعدة إلا أن يدعی تخصيصها بأن مرادهم بالواجب والسنة التي تعاد بتركه ما كان من ماهية الصلاة وأجزائها فلا يشمل الجماعة لأنها وصف لها خارج عن ماهيتها أو يدعي تقييد قولهم يتم ويقتدي متطوعا بما إذا كانت صلاته منفردا لعذر كعدم وجود الجماعة عند شروعه فلا تكون صلاته منفردا مكروهة والأقرب الأول ولذا لم يذكروا الجماعة من جملة واجبات الصلاة لأنها واجب مستقل بنفسه خارج عن ماهية الصلاة۔(ردالمحتار ,مطلب کل صلوۃ ادیت مع کراھۃ التحریم تجب  اعادتھا ج1 ص457)


فتویٰ نمبر : 8716/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں