بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں حرام کمائی لگانا،کسی دینی تقریب میں مسجد کی اشیاء استعمال کرنا


سوال

ایک شخص جس کی کمائی حرام ہے اور وہ مسجد میں کچھ رقم دیتا ہے ، کیا حرام کمائی والے کی یہ رقم مسجد میں لگانا شرعا جائز ہے ؟ (2) محلے میں ایک مدرسہ ہے جو مسجد کے زیر اہتمام نہیں ، جب ان کی کوئی تقریب ہوتی ہے تو وہ تقریب مسجد میں منعقد کرتے ہیں ، جس میں مسجد کا اسپیکر ، پنکھے اور بلب وغیرہ بھی استعمال ہوتے ہیں کیا مسجد سے ایک غیر متعلقہ مدرسہ کی تقریب مسجد میں منعقد کی جاسکتی ہے ؟

جواب

 (1) مسجد اللہ تعالی کا پاکیزہ اور مقدس گھر ہے  اس کی تعمیر اور مرمت  میں پاک اور حلال مال خرچ کرنا  چاہیے کیونکہ اللہ تعالی پاک اور حلال مال کو پسند کرتا ہے  ۔اس لیے حرام مال مسجد میں لگانا  درست نہیں  بلکہ مکروہ تحریمی ہے ۔

(2) دینی تقریبات جن میں تلاوت، حمد و نعت اور وعظ و نصیحت پر مشتمل بیانات ہوں ایسی تقریبات مسجد میں منعقد کرنا جائز ہے بشرطیکہ خلاف شرع امور کا ارتکاب ان میں نہ ہو، ایسی تقریبات میں مسجد  کے پنکھے اور لائٹ وغیرہ کا استعمال بھی ضرورت کے تحت جائز ہے ۔

قال تاج الشريعة أما لو أنفق في ذلك مالا خبيثا ومالا سببه الخبيث والطيب فيكره لأن الله تعالى لا يقبل إلا الطيب فيكره تلويث بيته بما لا يقبله ا هـ شرنبلالية (ردالمحتار کتاب الصلوۃ مطلب کلمۃ" لاباس " ج1 ص442)

وفي حاشية الحموي عن الإمام الشعراني أجمع العلماء سلفا وخلفا على استحباب ذكر الجماعة في المساجد وغيرها  إلا أن يشوش جهرهم على نائم أو مصل أو قارىء الخ فما كان منه في الوعظ والحكم وذكر نعم الله تعالى وصفة المتقين فهو حسن وما كان من ذكر الأطلال والأزمان والأمم فمباح وما كان من هجو وسخف فحرام وما كان من وصف الخدود والقدود والشعور فمكروہ(ردالمحتار   ،مطلب فی انشاد الشعر ج1 ص442)

وَلَا بَأْسَ بِأَنْ يَتْرُكَ سِرَاجَ الْمَسْجِدِ فيه من الْمَغْرِبِ إلَى وَقْتِ الْعِشَاءِ وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَتْرُكَ فيه كُلَّ اللَّيْلِ إلَّا في مَوْضِعٍ جَرَتْ الْعَادَةُ فيه بِذَلِكَ كَمَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ وَمَسْجِدِ النبي وَالْمَسْجِدِ الْحَرَامِ أو شَرَطَ الْوَاقِفُ(البحر الرائق ، کتاب الوقف ، لما اختص المسجد ،ج5ص277)


فتویٰ نمبر : 4493/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں