بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

پالتو کتے سے متعلق کچھ احکامات


سوال

میرے سسرال میں ایک کتا ھےوہ سارے گھر میں پھرتا ھےدسترخوان کے ساتھ آکر بیٹھ جا تا ھے۔کس قدر احتیاط ضروری ھے ؟

جواب

احادیث میں کتا پالنے کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ایک حدیث میں ہے کی جہاں کتا ہو وہاں  فرشتے نہیں آتے۔دوسری حدیث میں ہے کہ بلا ضرورت کتا پالنے والے کے اعمال میں سے روزانہ ایک قیراط کم کردیا جاتا ہے۔ لھذا  بلا ضرورت کتوں کو گھر میں رکھنا خیروبرکت سے محرومی کا موجب ہے اس لیے کتوں کےپالنے سے اجتناب ضروری ہے۔البتہ جانوروں یا کھیتی اور گھر کی حفاظت  اور شکار کے لیے کتا پالا جائے تو اس کی شریعت نے اجازت دی ہے۔

بلا ضرورت پالا گیا کتا جہاں تک ممکن ہو تو گھر سے ہٹا دینا چاہیے لیکن اگر ہٹانا اختیار میں نہ ہو تو پھر اس بات کا خیال رکھا جائے کتا رہائشی کمروں اور باورچی خانہ سے دور رہے ۔کھانے پینے کی اشیاء اور برتن میں منہ مارنے نہ دیا جائے  اگر کتا برتن میں منہ  مارے  تو برتن کو تین بار دھونا لازم ہوگا۔ صحیح قول کے مطابق کتا نجس العین نہیں البتہ اس کا لعاب اور پسینہ ناپاک ہے  لہذا اگر کسی شخص کے کپڑوں سے کتے کا جسم لگ جائے اور اس پر پسینہ یا نجاست نہ ہو تو اس سے کپڑے ناپاک نہیں ہوں گے  البتہ کتے کا پسینہ یا اس کا لعاب  کپڑوں پر لگ جائے تو اس سے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے۔اگر کتا کسی جگہ بیٹھ جائے تو اس میں بھی یہی تفصیل ہے کہ اگر کتے کے  جسم پر پسینہ یا نجاست ہو  یا کتے کا لعاب اس جگہ لگ جائے تو وہ جگہ ناپاک  ہوجائے گی اور اگر اس کے جسم پر پسینہ یا نجاست نہ ہو اور نہ ہی کتے کا لعاب وہاں ٹپکا ہو تو وہ جگہ پاک ہوگی۔

وما من أهل بيت يرتبطون كلبا إلا نقص من عملهم كل يوم قيراط إلا كلب صيد أو كلب حرث أو كلب غنم۔(سنن الترمذی،باب من امسک کلباماینقص من اجرہ،ج،4ص80،حدیث نمبر1489)

عن أبي هريرة قال : إذا ولغ الكلب في الإناء فاهرقه ثم اغسله ثلاث مرات۔(سنن الدارالقطني،باب ولوغ الكلب فی الاناء،ج1،ص66،حدیث نمبر16)

واعلم أنه ( ليس الكلب بنجس العين ) عند الإمام وعليه الفتوى وإن رجح بعضهم النجاسة كما بسطه ابن الشحنة فيباع ويؤجر ويضمن ويتخذ جلده مصلى ودلوا ولو أخرج حيا ولم يصب فمه الماء لا يفسد ماء البئر ولا الثوب بإنتفاضه ولا بعضه ما لم ير ريقه ولا صلاة حامله ولو كبيرا وشرط الحلواني شد فمه ولا خلاف في نجاسة لحمه وطهارة شعره۔(الدرالمختار،ج1،ص208)

( وحكم عرق كسؤر ) أي العرق من كل حيوان حكمه كسؤره لتولد كل منهما من اللحم كذا قالواولا خفاء أن المتولد هو اللعاب أي لا السؤر لكن أطلق عليه للمجاورة۔(ردالمحتار علی الدرالمختار،ج1،ص228)


فتویٰ نمبر : 4514/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں