بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

دینی مدارس کے مدرسین کی شعبان اور رمضان کی تنخواہ


سوال

بندہ ایک دینی مدرسہ میں تدریسی خدمات سرانجام دے رہاہے مدرسہ ہذا ضلع نوشہرہ پبی بازار کے قریب ایک گاؤں میں واقع ہے۔شعبان اور رمضان المبارک میں اساتذائے کرامِ شعبۂ کتب کو ماہانہ مشاہرہ نہ ملا۔جن اساتذائے کرام نے حضرت مہتممصاحب سے تعطیلات کا معاوضہ مانگا تو اس نے کہا کہ تعطیلات کا معاوضہ آپ کا حق نہیں بنتا،اس لیے کہ اہلیانِ مدارس کا یہی طریقہ ہے،اس لیے کہ شعبان اور رمضان میں مدرسہ بند ہوتاہے۔اس مسئلے پر دلائل کی روشنی میں وضاحتِ فتوی ارسال فرمائیں؟

جواب

واضح رہےکہ مدرسین کے لیے ایامِ تعطیلات کی تنخواہ کے سلسلے میں بنیادی کردارمعاہدے اور عرف کا ہے۔جہاں پرجن مدرسین کے ساتھ یہ معاہدہ ہوچکاہو کہ ان کو پورے سال کی تنخواہ ملےگی  تووہاں تعطیلات کے دنوں کی تنخواہ لیناان مدرسین  کا حق بنتا ہے،ورنہ عرف کو مدِنظررکھ کرہی فیصلہ کیا جاسکتاہے۔صورت مسئولہ کے مطابق جن مدرسین کے ساتھ درسی سال کا معاہدہ ہوچکا ہو  تو ان  کی  شعبا ن  اور رمضان کی تنخواہ مدرسے کے ضابطے کے مطابق ہوگی ، اگر  معاہدہ کرتے ہوئے یہ بات طے ہوئی ہو کہ شعبان اور رمضان کی تنخواہ نہیں دی جائے گی تو پھر وہ شعبان اور رمضان کے مہینوں کی تنخواہوں کے مستحق نہیں ہوں گے  اور اگر معاہدہ میں  یہ تصریح ہوئی ہو کہ بشمول ِشعبان اور رمضان سال متصور ہوگا یا پھر کسی قسم کی تصریح نہ ہوئی ہو تو مدارس کے عرف عام کے مطابق وہ اساتذہ کرام شعبان اور رمضان کی تنخواہوں کے مستحق ہوں گے ۔

وَمِنْهَا الْبَطَالَةُ فِى الْمَدَارِسِ،كَأَيَّامِ الْأَعْيَادِ وَيَوْمِ عَاشُورَاءَ ، وَشَهْرِ رَمَضَانَ فِي دَرْسِ الْفِقْهِ لَمْ أَرَهَا صَرِيحَةً فِي كَلَامِهِمْ .وَالْمَسْأَلَةُ عَلَى وَجْهَيْنِ: فَإِنْ كَانَتْ مَشْرُوطَةً لَمْ يَسْقُطْ مِنْ الْمَعْلُومِ شَيْءٌ ، وَإِلَّا فَيَنْبَغِي أَنْ يَلْحَقَ بِبَطَالَةِ الْقَاضِي ، وَقَدْ اخْتَلَفُوا فِي أَخْذِ الْقَاضِي مَارُتِّبَ لَهُ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ بَطَالَتِهِ،فَقَالَ فِى الْمُحِيطِ:إنَّهُ يَأْخُذُفِييَوْمِ الْبَطَالَةِ؛لِأَنَّهُ يَسْتَرِيحُ لِلْيَوْمِ الثَّانِي.وَقِيلَ : لَا يَأْخُذُ ( انْتَهَى ) .وَفِى الْمُنْيَةِ : الْقَاضِي يَسْتَحِقُّ الْكِفَايَةَ مِنْ بَيْتِ الْمَالِ فِي يَوْمِ الْبَطَالَةِ فِي الْأَصَحِّ ، وَاخْتَارَهُ فِي مَنْظُومَةِ ابْنِ وَهْبَانَ ، وَقَالَ : إنَّهُ الْأَظْهَرُفَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ كَذَلِكَ فى الْمَدَارِسِ؛لِأَنَّيَوْمَ الْبَطَالَةِ لِلِاسْتِرَاحَةِ.(الأشباه والنظائر،المبحث الثاني،القاعدة االسادسة العادةمحكمة،ج1ص96)


فتویٰ نمبر : 2744/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں