بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 20/10/2026 |
دارالافتاء
بھائی ،بہن اور بھابی کی گواہی
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ شوہر اور بیوی کی آپس میں مہر کے بارے میں اختلاف ہے۔شوہر کہتا ہے کہ میں نے آپ کو مہر دیا ہے اور آپ نے اپنی ماں کے گھر رکھا ہے اور بیوی انکار کررہی ہے۔اور شوہر کے بھائیوں کے بیویو ں نے بھی زیورات اپنے ماں کے گھر رکھے ہیں،کیونکہ شوہر دشمندار اور قاتل ہے اور شوہر کے پاس گواہوں میں ماں(شوہر کی ماں)بہن ،بھائی اور بھابی ہیں۔اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ لوگ گواہی دے سکتے ہیں یا نہیں؟اور اس اختلاف کا شرعی حکم کیا ہے؟اور اس میں مدعی کون ہے اور مدعی علیہ کون ہے؟
جواب
اصول وفروع کے حق میں اندیشہ تہمت کی وجہ سے گواہی شرعا معتبر نہیں۔اصول وفروع اور زوجین کے علاوہ دیگر محرم اور غیر محرم رشتہ داروں کے حق میں گواہی جائز ہے۔صورت مسئولہ میں ماں کی گواہی بیٹے کے حق میں معتبر نہیں۔البتہ بھائی،بہن اور بھابی کی گواہی شرعا معتبر ہے۔لہذا بھابی،بہن اور بھائی اگر بااعتماد ہوں تو ان کی گواہی بھائی کے حق میں قبول کی جاسکتی ہے۔اور اس پر فیصلہ کرنا درست ہوگا۔
(2)شوہر چونکہ مہر کی ادائیگی کا دعوی کر رہا ہے اس لیےوہ مدعی ہے جبکہ عورت انکار کر رہی ہے اس لیے وہ مدعی علیہا ہے ۔
واما سائر القرابات کالاخ والعم والخال ونحوھم فتقبل شہادۃ بعضھم لبعض۔(بدائع الصنائع،کتاب الشھادت،ج9 ص35)
فتقبل شہادۃ الاخ لاخیہ واختہ واولادھما،وکذا الاعمام واولادہ،والاخوال،والخالات،والعمات۔(شرح مجلہ لسلیم رستم باز،الکتاب الخامس فی البینات،المادہ 1700 ص 1031)
معرفۃ المدعی والمدعی علیہ ان ینظر الی المنکر منھما فھو المدعی علیہ والاخر المدعي۔(الاصل للامام محمد،کتاب الدعوی،ج 7 ص 574)
ینظر الی المتخاصمین ایھما کان منکرا فالاخر کان مدعیا۔(بدائع الصنائع،کتاب الدعوی،ج8 ص417)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں