بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 21/10/2026 |
دارالافتاء
"شاملاتی زمین" کا حکم
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء کرام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ ایک شخص کی زمین قومی پہاڑ کے قریب واقع ہے ۔ اس کی زمین کے ساتھ متصل پہاڑ تک کچھ شاملات بنجر زمین ہے ، اس کے لیے اس کو فروخت کرنا جائز ہے یا ناجائز؟
جواب
ایسی زمین جو شہر سے باہر ہو اور اس کا کوئی مالک نہ ہو "ارض موات" (شاملاتی زمین )کہلاتی ہے ۔ ارض موات کا حکم یہ ہے کہ جو شخص اس کو آباد کرے حکومت کی اجازت سے تو یہ شخص اس زمین کا مالک ہوگا ۔ جب تک حکومت کی طرف سے اجازت نہ ہو کوئی اس زمین کا مالک نہیں ہوسکتا ۔
اگر مذکورہ زمین آباد کرنے کی اجازت حکومت کی طرف سے ملی ہو اور سائل نے مذکورہ زمین آباد بھی کی ہو تو وہ اس زمین کا مالک ہے اور اس کے لیے اس زمین کو بیچنا جائز ہے ۔اور اگر حکومت کی طرف سے اجازت نہیں ملی تو ایسی زمین کو اپنی ملکیت سمجھ کر بیچنا جائز نہیں ۔
تاہم اگر شاملاتی املاک مشترکہ غیر تقسیم شدہ شکل میں ہوں ، تو اس میں تقسیم سے پہلےتمام شرکاء کی اجازت کے بغیر تعمیر اور خریدوفروخت وغیرہ ناجائز ہے۔
الارض الموات ھی ارض خارج البلد لم تکن ملکا لاحد ولا حقا لہ خاصاً۔(بدائع الصنائع کتاب الاراضی ،ج 8،ص283)
اذا احیا شخص ارضا من الاراضی الموات باذن السلطان صار مالکا لھا ۔۔۔لہ ان الارض مغنومۃ لاستیلاء المسلمین علیھا فلم یکن لاحد ان یختص بھا بدون اذن الامام کسائر المغانم ۔۔۔قال فی ردالمحتار وقول الامام ھو المختار ۔۔۔وبہ اخذ الطحاوی وعلیہ المتون ۔(شرح المجلۃ ج 4، ص 204)
(الا فی مقدارحصتہ) کل من الشرکاء فی شرکۃ الملک اجنبی فی حصۃ سائر ھم فلیس احدھم وکیلا عن الآخر ولا یجوز لہ ان یتصرف فی حصۃ شریکہ بدون اذنہ ۔(شرح المجلۃ 601،المادۃ 1075)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 892
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1192
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں