بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

جاز کیش اکاونٹ میں رقم کے عوض فری منٹس استعمال کرنا


سوال

جازکیش اکاونٹ میں 1000 کا بیلنس رکھنے اور مہینہ میں ایک بار استعمال پر روزانہ 50 منٹ ملتے ہیں کیا یہ سود کے زمرے میں آتا ہے۔؟

جواب

موبائل کمپنیوں کی جانب سے مختلف ناموں سے  اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت فراہم کی جاتی ہےمثلاً(جاز کیش اکاؤنٹ اورایزی پیسہ اکاؤنٹ وغیرہ) ان اکاؤنٹوں میں مخصوص مقدار میں رقم  رکھنے کی شرط پرکمپنی کی طرف سے مختلف سہولیات اکاؤنٹ ہولڈر کو مہیا کی جاتی ہیں جیسے فری  منٹس،فری ایس ایم ایس وغیرہ۔صورتِ مسئولہ کےبارے میں جاز كيش اکاونٹ کی ویب سائٹ سے معلومات لی گئیں تو معلوم ہوا کہ کمپنی جاز نمبر پر اکاؤنٹ بنانے والے کواکاؤنٹ میں ایک ہزار(1000)سے لےکر (1999)تک رقم رکھنے اور مہینے میں ایک بار استعمال کرنے پر روزانہ تیس(30) منٹس اورتیس(30)ایس ایم ایس ،جبکہ دوہزار(2000)سے(2999)تک رقم  رکھنے پرروزانہ  ساٹھ(60)منٹس اورساٹھ ایس ایم ایس ،اورتین ہزار سے زائد رقم پرسو (100) منٹس اورسو(100) ایس ایم ایس مفت فراہم کرتی ہے۔ چونکہ کمپنی کی طرف سے مخصوص رقم اکاؤنٹ میں رکھنےکی شرط پر  سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اس لیےیہ شرعاًسود کے حکم میں ہے لہذااس کا استعمال کرنا  جائز نہیں۔

قوله ( كل قرض جر نفعا حرام ) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر وعن الخلاصة وفى الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا فى القرض فعلى قول الكرخي لا بأس به ويأتي تمامه .....ثم رأيت في جواهرالفتاوى إذا كان مشروطا صار قرضا فيه منفعة وهو ربا وإلا فلا بأس به.(ردالمحتارمع درالمختار،كتاب القرض ،مطلب كل قرض جر نفعا حرام،ج7ص395)

وَأَمَّا الذي يَرْجِعُ إلَى نَفْسِ الْقَرْضِ فَهُوَ أَنْ لَا يَكُونَ فيه جَرُّ مَنْفَعَةٍ فَإِنْ كان لم يَجُزْ....لِمَا رُوِيَ عن رسول اللَّهِ صلى اللَّهُ عليه وسلم أَنَّهُ نهى عن قَرْضٍ جَرَّ نَفْعًا وَلِأَنَّ الزِّيَادَةَ الْمَشْرُوطَةَ تُشْبِهُ الرِّبَا لِأَنَّهَا فَضْلٌ لَا يُقَابِلُهُ عِوَضٌ وَالتَّحَرُّزُ عن حَقِيقَةِ الرِّبَا وَعَنْ شُبْهَةِ الرِّبَا وَاجِبٌ.(البدائع الصنائع،كتاب القرض،ج10ص597)


فتویٰ نمبر : 2754/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں