بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

پہلا کاتب وحی صحابی


سوال

 پہلے کاتب وحی  صحابی کون تھے؟

جواب

 آپﷺ کے بعض صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم مکاتیب وخطوط اور صدقات  وغیرہ  کی کتابت سر انجام دیتے تھے  جبکہ  بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کتابت وحی کی خدمت پر مامور تھے ،در بار نبویﷺ کے لکھنے والوں کے ناموں کی تفصیل وتعداد  مختلف  کتابوں  میں بیان کی گی گئی ہے  جن میں خلفاء  اربعہ رضی اللہ عنہم بھی  شامل ہیں ۔

           جہاں تک پہلے کاتب وحی صحابی کے نام کا تعلق ہے  تو  حافظ ابن حجر ؒ نے  "فتح الباری " میں لکھا ہے  کہ مکی دور میں  سب سے پہلے کتابت  کی ذمہ داری  قریش کے "عبد اللہ بن سعدبن ابی سرح " نے انجام دی تھی ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلا کاتب وحی  یہی  صحابی ہے ۔جبکہ  مدنی دور میں  پہلے کتابت وحی  کی خدمت انجام دینے والے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ تھےالبتہ حافظ ابن حجر ؒ نے"الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ " میں   خالد بن سعیدرضی اللہ عنہ  کی بیٹی کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ "بسم اللہ الرحمن الرحیم"کی کتابت  سب سے پہلے  میرے والد  (خالد بن سعید)نے  کی  جو کہ ابتدائی چار مسلمانوں(ابو بکر صدیق،علی ابن ابی طالب،زید بن حارثہ اور سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم)  کے بعد مشرف بہ اسلام ہو ئے تھے اس لحاظ سے   پہلے کاتب وحی صحابی   خالد بن سعیدرضی اللہ عنہ ہیں ، اس لئے کہ  "بسم اللہ الرحمن الرحیم"  بھی قرآن کا  حصہ ہے ۔

كتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم جماعة غير زيد بن ثابت أما بمكة فلجميع ما نزل بها لأن زيد بن ثابت إنما أسلم بعد الهجرة وأما بالمدينة فأكثر ما كان يكتب زيد ولكثرة تعاطيه ذلك أطلق عليه الكاتب بلام العهد ولهذا قال له أبو بكر إنك كنت تكتب الوحي لرسول الله صلى الله عليه و سلم وكان زيد بن ثابت ربما غاب فكتب الوحي غيره وقد كتب له قبل زيد بن ثابت أبي بن كعب وهو أول من كتب له بالمدينة وأول من كتب له بمكة من قريش عبد الله بن سعد بن أبي سرح ثم ارتد ثم عاد إلى الإسلام يوم الفتح وممن كتب له في الجملة الخلفاء الأربعة والزبير بن العوام۔۔۔(فتح الباري، كتاب فضائل القرآن،باب كاتب النبيﷺ ج10/ص27)

وروى بن أبي داود في المصاحف من طريق إبراهيم بن عقبة عن أم خالد بنت خالد قالت أبي أول من كتب بسم الله الرحمن الرحيم ۔(الاصابةفي تمييز الصحابة،لابن حجر العسقلاني،حرف الخاء2172:ج2ص203)

خالد بن سعيد بن العاص بن أمية بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصي القرشي الأموي . يكنى أبا سعيد أمه أم خالد بن حباب بن عبد ياليل بن ناشب بن غيرة من ثقيف  أسلم قديما يقال : إنه أسلم بعد أبي بكر الصديق رضي الله عنه فكان ثالثا أو رابعا وقيل : كان خامسا . وقال ضمرة بن ربيعة : كان إسلام خالد مع إسلام أبي بكر وقالت أم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص : كان أبي خامسا في الإسلام . قلت : من تقدمه قالت : علي بن أبي طالب وأبو بكر وزيد بن حارثة وسعد بن أبي وقاص رضي الله عنهم۔(اسد الغابة بمعرفة الصحابة،1365:ج2ص119)


فتویٰ نمبر : 4508/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں