بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کی رقم سےتعمیر یا قرض کی ادائیگی


سوال

ایک بیوہ مستحق زکوۃ عورت جس کو صاحب خیر احباب نے زکوۃ کی مد میں ایک عدد پلاٹ برائے مکان دیا ہے مکان بنانے کیلئے اس عورت کے پا س رقم نہیں ہے تو کیا دوسرا صاحب نصاب شخص اس عورت کیلئے زکوۃ کی رقم سے مکان بنواکر دے سکتا ہے یا نہیں ؟نیزکیا اس طریقہ سے زکوۃ ادا ہو جائیگی؟(2)مکان تعمیر کرنے میں تو وقت لگے گا شرعا کونسا طریقہ اپنایا جائے کہ زکو ۃ دینے والوں کی زکوۃ فورا ادا ہو جائے ؟(3)اگریہ بیوہ عورت ٹھیکیدار سے یہ معاھدہ کر لے کہ آپ کا جو قرض مکان تعمیر کرنے سے میرے ذمہ چڑھے گا فلاں صاحب نصاب شخص زکوۃ کی مد سے اس کو ادا کرے گا اور زکوۃ دینے والا بھی اس پر راضی ہو جائے ،از روئے شرع ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

 شریعت کی رو سے زکوۃ کی ادائیگی میں بنیادی شرط تملیک( مستحق زکوۃ کومالک بنانا)ہےچاہے زکوۃ نقد رقم کی شکل میں ادا کی جائے یا اشیاء وغیرہ  کا مالک بنایا جائے  ۔لہذا صورت مسؤلہ میں اگر بیوہ عورت واقعی مستحق زکوۃ ہو  تو زکوۃ کی رقم سے اس کیلئے خالی پلاٹ میں مکان تعمیر کرکے ملکیت میں دینا جائز ہے ۔

(2) زکوۃ کی رقم اگر اس خاتون کو نقد دے کر مالکانہ تصرفات  کا اختیار دے دیا جائے تو زکوۃ فوری طور پر ادا ہو جائے گی مالک بننے کے بعد اس خاتون کو اختیار حاصل ہوگا کہ جہاں چاہے  اس کو خرچ کرے۔

(3)اگر مستحق زکوۃ عورت کسی  ٹھیکیدار سے یہ معاہدہ کر لے کہ میرے لیے مکان تعمیر کرو جو قرض تیرا میرے ذمے چڑھے گا  فلا ں شخص ماہانہ کے حساب سے تجھے د ے گااور پھر وہ صاحب نصاب شخص اس بیوہ کی رضامندی و اجازت سے زکوۃ کی رقم ٹھیکیدار کو دیتا رہے توشرعا اس سے زکوۃ ادا ہو جاتی ہے ۔البتہ اس صورت میں زکوۃ تب ہی ادا ہوگی  جب زکوۃ دینے والا  زکوۃ کی رقم  ٹھیکیدار  کے  حوالہ کرےگا۔

أما الذي يرجع إلى المؤدى  فمنها أن يكون مالا متقوما على الإطلاق سواء كان منصوصا عليه أو لا من جنس المال الذي وجبت فيه الزكاة أو من غير جنسه ۔(بدائع الصنائع ،كتاب الزكوة ،فصل فيما يرجع الى المؤدى،ج2/ص461)

ويشترط أن يكون الصرف ( تمليكا ) لا إباحة۔(الدر المختار،كتاب الزكوة ،باب المصرف،3/ص291)

وقدمنا أن الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره لم أره والظاهر نعم(الدر المختار ،کتاب الزکوۃ،باب المصرف ،ج3/ص293)

ولو قضى دين حي فقير أن قضى بغير أمره لم يجز لأنه لم يوجد التمليك من الفقير لعدم قبضه وإن كان بأمره يجوز عن الزكاة لوجود التمليك من الفقير لأنه لما أمره به صار وكيلا عنه في القبض فصار كأن الفقير قبض الصدقة بنفسه وملكه من الغريم۔(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،فصل فى ركن الزكوة،ج2 /ص457)


فتویٰ نمبر : 8712/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں