بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/08/2026

دارالافتاء

 

کسی تقریب میں گانا بجانے کے کھانے پر اثرات


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا گانالگانے سے ولیمہ حرام ہو جاتا ہے اور گانالگانے سے اور کیا کیا گناہ ہے ۔

جواب

واضح رہے کہ آلات لہو و موسیقی کا استعمال اور سننا سنانادونوں بالاجماع حرام ہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ آپﷺ نے طبل (ڈول)، کوبہ (ڈول کی ایک قسم )اور شراب و جوئے کو حرام قرار دیا ہے اسی طرح جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ گانا سننا دل میں نفاق جیسی مہلک بیماری پیداکرتا ہے مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ ایسے ناجائز امور کا ارتکاب کرے لیکن اس موسیقی اور گانے بجانے کا اثر ولیمہ اور اس کی دعوت پر اس طرح نہیں پڑتا کہ اس کی وجہ سے ولیمے کے کھانے کو ناجائز یا حرام کہا جائے البتہ ایسی محفل چونکہ غیر شرعی امور اور منہیات پر مشتمل ہوتی ہے اس لیے اس میں شرکت کرنا ناجائز ہے تاہم اگر پہلے سے علم نہ ہو اور وہاں پر جانے کے بعد معلوم ہوجائے کہ یہ دعوت اور ولیمہ موسیقی جیسے حرام امور پر مشتمل ہے تو عوم کےلیے کھانے کی گنجائش ہےجب کہ علما اور پیشوا لوگوں کے لیے ایسی  صورت میں دعوت کی مجلس سے جانا چاہیے تاکہ لوگ اس کی ناراضگی سے عبرت حاصل کریں اور اہل دین کی بد نامی بھی نہ ہو ۔

وعن ابن عباس عن رسول الله ﷺ قال إن الله تعالى حرم الخمر والميسر والكوبةو قال: كل مسكر حرام  قيل :الكوبة الطبل۔(السنن الكبرى للبيهقي باب ما جاء في ذم الملاهي ج10ص221)

وعن جابر رضي الله تعالى عنه قال قال رسول الله ﷺ الغناء ينبت النفاق في القلب كما ينبت الماء الزرع يعني الغناء سبب النفاق ومؤد إليه ۔۔۔وقال النووي في الروضة غناء الإنسان بمجرد صوته مكروه وسماعه مكروه وإن كان سماعه من الأجنبية كان أشد كراهة۔(مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح كتاب الادب الفصل الثالث ج8ص557  )

من دعي الى وليمة و ثمه لعبا اوغناء، قعد واكل ۔۔۔ان لم يكن ممن يقتدى به ،فان كان مقتدى به و لم يقدر على المنع خرج و لم يقعد لان فيه شين الدين ۔۔۔وان علم اولا باللعب لا يحضر اصلا ۔(الدر المختار على صدر رد المحتار كتاب الحضر والاباحةج9ص501،502)


فتویٰ نمبر : 4493/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں