بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مکتب ومدرسہ کے مدرسین کی تنخواہ کامعیار


سوال

ہماراایک مکتب ومدرسے کاادارہ ہے،اگرادارے میں نئے اساتذہ کاتقررہوتاہے تو ان کی تنخواہیں کس معیار سے مقرر کی جائیں؟ کیا اس میں عرف کی پابندی ضروری ہے؟ مفصل رہنمائی فرمائیں؟

جواب

واضح رہے کہ کسی ادارے میں کسی شخص کاملازمت اختیار کرناعقداجارہ ہے۔اس میں ادارہ "مستاجر" جبکہ ملازم "اجیر" ہوتاہے۔عقد اجارہ کی صحت کے لیے ضروری ہے کہ اجرت متعین اورمعلوم ہو،اور اس پر عاقدین کی رضامندی پائی جائے۔پھر نجی اداروں میں تو  اجرت طے کرنے میں  عرف یا مارکیٹ ویلیو کی پابندی شرعاً ضروری نہیں،بلکہ جس مقدار پر بھی عاقدین رضامند ہوجائیں وہی اجرت قرار پائے گی۔البتہ جہاں تک وقف ادارے کاتعلق ہے تواس میں اس بات کاخیال رکھناضروری ہے کہ اس میں ملازم اور مدرس کی حیثیت اورقابلیت کودیکھ کراتنی تنخواہ مقرر کی جائے جس سے اس کی ضروریات اور حوائج پورے ہوتے ہوں،البتہ ضروریات اور حوائج  کا دائرہ حالات اور زمانے کی وجہ سے بدلتا رہتاہے اس لیے جس زمان ومکان میں مدرس کوتنخواہ دی جاتی ہو تواس  زمان ومکان  کے حالات کے مطابق اس کی ضروریات اور حوائج کومدنظررکھ کر تنخواہ کاتقرر کیا جاسناچاہیے۔ وقف مال سے کسی ملازم کی حیثیت ،قابلیت اورضروریات سے بڑھ کر اتنی زیادہ تنخواہ مقررکرناجائز نہیں جوغبن فاحش کی حدتک پہنچ جائے۔

"وهو أَنْ تَكُونَ الْأُجْرَةُ مَالًا مُتَقَوَّمًا مَعْلُومًا وَغَيْرَ ذلك مِمَّا ذَكَرْنَاهُ في كِتَابِ الْبُيُوعِ"۔(بدائع الصنائع،کتاب الإجارة،فصل وأماشرائط الركن فأنواع،ج4ص193)

"أَمَّا الذي يَرْجِعُ إلَى الْعَاقِدِ فَرِضَا الْمُتَعَاقِدَيْنِ لِقَوْلِهِ عز وجل { يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إلَّا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عن تَرَاضٍ مِنْكُمْ } وَالْإِجَارَةُ تِجَارَةٌ"۔(بدائع الصنائع،کتاب الإجارة،فصل وأماشرائط الركن فأنواع،ج4ص179)

" كما تَجُوزُ كِفَايَةُ الْقَاضِي من بَيْتِ الْمَالِ تُجْعَلُ كِفَايَةُ عِيَالِهِ وَمَنْ يَمُونُهُ من أَهْلِهِ وَأَعْوَانِهِ في مَالِ بَيْتِ الْمَالِ ۔۔۔وَكَذَا الْفُقَهَاءُ وَالْعُلَمَاءُ وَالْمُعَلِّمُونَ الَّذِينَ يُعَلِّمُونَ الْقُرْآنَ"۔(الفتاوٰی الهندية،كتاب أدب القاضي،الباب التاسع في رزق القاضي،ج3ص294)

" لكن قال في البحر أن يكون ذلك خيانة من المتولي لو عالما بذلك  وذكر الخصاف أن الواقف أيضا إذا آجر بالأقل مما لا يتغابن الناس فيه لم تجز ويبطلها القاضي فإن كان الواقف مأمونا وفعل ذلك على طريق السهو والغفلة أقره القاضي في يده وأمره بإجارتها بالأصلح وإن كان غير مأمون أخرجها من يده وجعلها في يد من يثق بدينه وكذا إذا آجرها الواقف سنين كثيرة ممن يخاف أن يتلف في يده يبطل القاضي الإجارة ويخرجها من يد المستأجر ا هـ فإذا كان هذا في الواقف فالمتولي أولى ا هـ "(ردالمحتار،مطلب إذاآجرالمتولي بغبن فاحش كان خيانة۔ج6ص416)

 


فتویٰ نمبر : 2742/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں