بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

زندگی میں اولاد کے درمیان مال تقسیم کرنا


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنا ذاتی رہائشی مکان فروخت کیا اور مجھے ایک کروڑ اونچاس لاکھ روپے ملے ۔ جو میں نے اپنی بیٹی کے اکاؤنٹ میں رکھوادئیے۔میں نے یہ رقم شرعی طریقے سے چار حصوں میں تقسیم کرنے کا ارادہ کیا تھا اب حال ہی میں میری بیوی کی وفات کے بعد تین شرکا (میں ، میرا ایک بیٹا اور میری ایک بیٹی )رہ گئے ہیں ۔ اب دریافت یہ ہے کہ مندرجہ بالا رقم کی شرعی تقسیم کیا ہوگی میں اس کو کس طرح تقسیم کرسکتا ہوں اس میں میرا ، میری بیٹی اور میرے بیٹے کا کیا حصہ ہوگا ۔

جواب

واضح رہے کہ زندگی میں ہر شخص کو  ذاتی مال و جائیداد میں ہر قسم کے جائز تصرفات کا مکمل  طور پر اختیار حاصل ہے ۔کسی بھی وارث یا اولاد کو یہ حق نہیں کہ وہ  حالت حیات میں مال و جائیداد کا مطالبہ کریں ہاں اگر کوئی شخص حالت حیات میں اپنی خوشی اور رضامندی سے مملوکہ مال اولاد میں تقسیم کرنا چاہے تو انصاف سے کام لیکر سب کو برابر حصہ دینا چاہیئے ۔کسی کو بلا عذر شرعی کم دینے یا محروم کرنے پر گناہ گار ہوگا ۔

            صورت مسئولہ میں اگر واقعی سائل نے اپناذاتی رہائشی مکان فروخت کیا ہے تو اس سے حاصل شدہ رقم سائل کی ملکیت ہے اسے اختیار ہے کہ اس کو اپنے لیے رکھے یا اولاد کے درمیان تقسیم کرے ۔ البتہ پیش آمدہ ضرور یات کا خیال رکھتے ہوئے اتنے مقدار میں رقم اپنے پاس رکھنی چاہیے کہ کل کسی کا محتاج نہ بنے ۔اس کے لیے شرعا ً     کوئی مقدار متعین نہیں بلکہ خود اپنی صوابدید پر اپنے لیےحصہ رکھ دے ۔ باقی رقم اگر اولاد کے درمیان خوشی کے ساتھ تقسیم کرنا چاہے تو اس کا مستحب اور بہتر طریقہ یہ ہے کہ بیٹے اور بیٹی کو برابر حصہ دے تاہم یہ بھی جائز ہے کہ بیٹیوں کی بنسبت  بیٹوں کو دوگنا دے دے ۔

ولو وهب رجل شيئا لاولاده في الصحة ، أاراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الاصل عن اصحابنا ۔۔۔عن ابي يوسف رحمہ اللہ تعالی انہ لا با س به اذا لم يقصد به الاضرار ، وان قصد به الاضرار سوى بينهم يعطى الابنة مثل الابن ، وعليه الفتوی .(الفتاوى الهنديةالباب السادس في الهبة للصغير ج4ص391)

وفي الخانية لا باس بتفضيل بعض الاولاد في المحبة ، لانها عمل القلب و كذا في العطايا ان لم يقصد به الاضرار يعطى البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ، و في الشامية قوله و عليه الفتوى اي على قول ابي يوسف من ان التنصيف بين الذكر والانثى افضل من التثليث الذي هو قو ل محمد (ردالمحتار على الدر المختار كتاب الهبة ج8ص501،502)


فتویٰ نمبر : 2741/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں