بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مسجد میں حرام پیسے صرف کرنے کا حکم


سوال

 میرا بھائی بیس سال سے دبئی کے بینک میں منیجر کے طور پر ملازم ہے ۔انھوں نے اپنی تنخواہ میں سے ایک لاکھ روپے مسجد کے لیے دیے جو میں نے مسجد کے لنٹر میں خرچ کردیے اب مجھے معلوم ہوا کہ مسجد میں حرام پیسے لگانا جائز نہیں اب ایک آدمی نے مزید ایک لاکھ روپے مسجد کے لیے دیے ہے تو کیا میں یہ ایک لاکھ روپے غریبوں پر خرچ کروں یا اپنے بھائی کو واپس دوں ؟

جواب

مسجد خداکا مقدس اور پاکیزہ گھر ہے ثواب کی نیت سے اس میں رقم خرچ کی جاتی ہے اور ثواب کے حصول کے لیے مال کا حلال ہونا اور ہر قسم کے خبث سے پاک ہونا ضروری ہے کیونکہ آپ ﷺ کا ارشادہے کہ کوئی نماز پاکی کی بغیر قبول نہیں کی جاتی اور نہ کوئی صدقہ غنیمت میں چوری کیے ہوئے مال سے قبول کیاجاتا ہے اسی وجہ سے فقہائے کرام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ ہر قسم حرام کمائی خواہ سود کے پیسے ہو یا چوری وغیرہ کے  مسجد میں استعمال کرنا ممنوع ہےاگرچہ بعض حضرات نے یہ کہا ہے کہ حرام کمائی مسجد کے لٹرین وغیرہ میں خرچ کرنا درست ہے لیکن صحیح قول یہ ہے کہ مسجد کے کسی مصرف میں حرام کمائی خرچ کرنا جائز نہیں لہذا تعمیر مسجد کے لیے حرام اور مشتبہ مال نہیں لیناچاہیے اگر کسی نے دے دیا تو اس کو واپس کردیا جائے اگر اس مال حرام سے تعمیر کرادی گئی ہوتو اگر ممکن ہو تو اس کی قیمت مالک کو واپس کرنی چاہیے اور اگر ممکن نہ ہو تو اتنی رقم فقراءاور غرباء  پر بغیر نیت ثوا ب کے  صدقہ کردی جائے ۔

صورت مسئولہ میں اگر سائل کو یہ معلوم ہو کہ میرے بھائی نے حرام کمائی میں سے ایک لاکھ روپے مسجد کے لیے دیے ہیں  جو مسجد کے لنٹر میں خرچ کردیے گئے ہیں تو اب مسجد کو اس حرام مال سے پاک کرنے کے لیے یہ صورت اختیار کی جائے کہ اتنی ہی رقم کوئی صاحب خیر اپنی طرف سے یا مسجد کے چندہ کی طرف سے اصل مالک کو واپس کی جائے ۔

عن ابن عمر رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺقال :"لا تقبل صلاۃ بغیر طھورولا صدقۃ من غلول "(سنن الترمذی ابواب الطھارۃ عن رسول اللہ ﷺج1ص53)

قال تاج الشریعۃ:اما لو انفق في ذالك مالا خبيثا و مالا سببه الخبيث و الطيب فيكره لان الله تعالى لا يقبل الا الطيب ، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله (رد المحتار على الدر المختار ، كتاب الصلوة، با ب ما يفسد الصلاة و يكره فيها ج2 ص431)

لو مات رجل و كسبه من ثمن الباذق و الظلم او اخذ الرشوة تعود الورثة ولا ياخذون منه شيا وهو الاولى و يردونه على اربابه ان عرفوهم والا يتصدقو به ،لان سبیل  الكسب الخبيث التصدق اذا تعذر الرد (البحر الرائق كتاب الكراهية فصل في البيع ج8ص369)


فتویٰ نمبر : 4501/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں