بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

سکول میں طلبہ سے غیرحاضری پر جرمانہ لینا


سوال

کیافرماتےہیں مفتیانِ کرام اس مسئلےکےبارےمیں کہ ہمارے ہاں ایک پرائیویٹ سکول ہےجس میں ایک غیرحاضری پرپچاس روپےجرمانہ لیتےہیں براہِ کرم مہربانی فرمائیں کہ مذہبِ احناف میں تعزیربالمال جائز ہے یا نہیں؟ زید کا موقف ہے کہ ان دوشرطوں کے ساتھ تعزیر بالمال جائز ہے ۔(1) اگر پہلے سے شرائط میں ڈسپلن کے لیے موجود ہو۔(2) یہ پیسے سکول کےرفاہِ عامہ میں استعمال ہوتےہوں یعنی سکول کے بچے اس سے فائدہ اٹھاسکتے ہوں،کیونکہ امام ابویوسف کےنزدیک تعزیربالمال جائز ہے۔بکرکاموقف ہے کہ احناف کےہاں کسی بھی صورت میں تعزیر بالمال جائز نہیں ،یہی قول مذہب احناف میں راجح ہے ۔ رہنمائی فرمائیں کہ مذہب احناف میں راجح قول کس کا ہے،امام ابوحنیفہ کا یا امام ابویوسف کا؟

جواب

واضح رہے کہ  تعزیر بالمال (مالی جرمانے)کے جواز میں فقہاے کرام کا اختلاف ہے  فقہاےاحناف میں سے اکثر فقہاےکرام کے ہاں تعزیر بالمال جائز نہیں البتہ امام ابویوسفؒ سےاس کا جواز منقول ہےاورموجودہ حالات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ بعض انتظامی امور میں مالی جرمانہ مقرر کیا جائے کیونکہ ہر مجرم پر بدنی سزا سے لوگ مشقت میں پڑ جائیں گے جو تنفیر کا سبب بنے گا۔اور بسا اوقات بدنی سزا سےکسی جرم کی روک تھام نہیں ہوسکتی  لیکن مالی سزا کی بدولت روک تھام ہوجاتی ہے،لہذا ان حالات میں امام ابویوسفؒ کے قول سے استفادہ کرتے  ہوئے اس کے جواز کی گنجائش دینا مناسب معلوم ہوتا ہے۔علامہ ابن عابدینؒ نے بزازیہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام تعزیر میں مال لے سکتا ہے،لیکن خود استعمال نہیں کر سکتا،بلکہ مجرم کی توبہ اور اصلاح کے بعد اس کوواپس لوٹادے گا۔ایک قول یہ بھی نقل کیا ہے کہ امام اگر مجرم کی توبہ سے ناامید ہوجائے توخیر کے کام میں اس کو استعمال کرے۔صورتِ مسئولہ میں سکول سے غیر حاضری  کرنا جرم ہے اس لیے سکول کے پرنسپل کےلیے زجر اورتادیب کی خاطر  غیر حاضری پر جرمانہ لینا جائز ہے،لیکن استاداس کوخود استعمال نہیں کرسکتا،بلکہ طالب علم کی توبہ اور اصلاح کےبعداس کو واپس لوٹادےگا۔یا اگراستاد طالب علم کی اصلاح سے ناامید ہو یاجرمانہ واپس لوٹانے سے طلباکویہ تاثر ہو کہ جرم کرتے رہیں گےجرمانہ ہم کوویسے بھی واپس کیاجارہاہےتو ایسی صورت میں اس رقم کو  ر فاہِ عامہ میں خرچ کرنے کی گنجائش ہے۔

عن عمر : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال: من وجدتموه غل فى سبيل الله فأحرقوا متاعه قال صالح :فدخلت على مسلمة ومعه سالم بن عبد الله فوجد رجلاقدغل فحدث سالم بهذا الحديث فأمر به فأحرق متاعه فوجد فى متاعه مصحف فقال سالم :بع هذا المصحف وتصدق بثمنه.(الجامع الترمذى،أبواب الحدود،باب ماجآء فى الغال مايصنع به،ج4ص61)

ويجوز التعزير بأخذالمال،وهومذهب أبى يوسف وبه قال مالك،ومن قال:إن العقوبة المالية منسوخة فقد غلط على مذاهب الأئمة نقلاواستدالا،وليس بسهل دعوى نسخها،وفعل الخلفاء الراشدين وأكابرالصحابةلهابعدموتهﷺ مبطل لدعوى نسخها والمدعون للنسخ ليس معهم سنة ولاإجماع يصح دعواهم. (معين الحكام ص231)

 وأفاد فى البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عند مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي .وفى المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ ورأى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب ؛الحدود،باب التعزير،مطلب فىالتعزيربأخذالمال،ج4ص61)


فتویٰ نمبر : 4485/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں