بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 11/08/2026

دارالافتاء

 

زکوۃ کی ادائیگی میں یوم الوجوب معتبر ہے یا یوم الاداء


سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید کے نصاب پر سال یکم شعبان کو مکمل ہوتا ہے ، یکم شعبان کو سونے کی قیمت 95000 روپے فی تولہ تھی ، زید نے کسی وجہ سے یکم شعبان کو زکوۃ ادا نہیں کی اب زید یکم رمضان کو زکوۃ ادا کرنا چاہتا ہے یکم رمضا ن کو سونے کی قیمت ایک لاکھ روپے فی تولہ ہے ۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ ایسی صورت میں اعتبار وجوب زکوۃ یعنی یکم شعبان کی قیمت کا ہوگا یا ادائے زکوۃ یعنی یکم رمضان کی قیمت کا ؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے وجوب زکوۃ کے لئے نصاب پر حولان حول )یعنی سال کا گزرنا) شرط ہے لہذا جب حولان حول ہوجائے تو   زکوۃ واجب ہوجاتی ہے  پھر اگر صاحب نصاب شخص  زکوۃ  اسی مال کے  جنس سے ہی ادا کرنا چاہے  یعنی  سونے اور چاندی کی زکوۃ سونے اور چاندی میں سے ہی دے تو  چالیسواں  حصہ دے گا  لیکن   اگر جنس سے زکوۃ ادا نہ کرے  بلکہ   قیمت ادا کرنا چاہے تو     اس دن کی قیمت کا اعتبار کیا جائے گا جس دن  زکوۃ ادا کر ے۔

( وجاز دفع القيمةفي زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق ) وتعتبر القيمة يوم الوجوب وقالا يوم الأداءوفي السوائم يوم الأداء إجماعا وهو الأصح۔  (الدر المختار ، باب زكوة الغنم ، 286/2)

لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء۔  (بدائع الصنائع ، فصل و اما صفة الواجب فى اموال التجارة ، 22/2)


فتویٰ نمبر : 8708/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں