بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

عضو کٹنے کی وہ مقدار جو قربانی سے مانع ہے


سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ قربانی کے جانور میں کان یا دم کی کتنی مقدار کٹنے کی صورت میں قربانی درست نہیں جمہور فقہائے احناف کا مفتی بہ قول کیا ہے۔

جواب

واضح رہے کہ قربانی کے جانور کے کسی عضو کا کٹا ہوا حصہ زیادہ ہو تو یہ قربانی کے جواز کے لیے مانع ہے اور اگر کم ہو تو یہ مانع نہیں ۔کم اور زیادہ کی مقدار کے بارے میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے لیکن اس بارے میں مفتی بہ قول یہ ہے کہ تہائی یا اس سے کم حصہ قلیل ہے جب کہ تہائی سے زیادہ کثیر ہےلہذا صورت مسئولہ میں قربانی کے جانور کا کان یا دم مکمل طور پر کٹ جانے یا ثلث (تہائی) سے زیادہ کٹ جانے کی صورت میں قربانی جائز نہیں ہوگی ۔

واما صفته فهو ان يكون سليما من العيوب الفاحشة۔۔۔۔ان كان الذاهب كثيرا يمنع جواز التضحيةوان كان يسيرا لايمنع۔۔۔والصحيح ان الثلث وما دونه قليل وما زاد عليه كثير و عليه الفتوى كذا في فتاوى قاضي خان (الفتاوى الهنديةالباب الخامس في بيان محل اقامة الواجب:344/5)

ذکر فی الجامع الصغیر ان کان کثیرا یمنع وان یسیرا لا یمنع واختلف اصحابنا في الفاصل بين القليل والكثير ۔۔۔۔والصحيح ان الثلث وما دونه  قليل وما زاد عليه كثير و عليه الفتوی(رد المحتا رعلی الدر المختار كتاب الاضحية:468/9)


فتویٰ نمبر : 8705/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں