بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

ذبیحہ کو ٹھنڈا ہونے سے پہلے اس کی کھال اتارنا


سوال

بعض لوگ جلد بازی میں جانورکوٹھنڈاہونےسے پہلے ہی اس کی کھال اتارنا شروع کردیتے ہیں۔شرعاًیہ درست ہے یا نہیں؟

جواب

شریعتِ مطہرہ نے ہر چیز کے ساتھ حسنِ سلوک کی تعلیم دی ہے حضورﷺ نےفرمایاکہ "اللہ تعالی نے ہر چیز کے ساتھ حسن ِسلوک  کوفرض کیا ہے۔جب بھی تم اپنے دشمن کو قتل کرو تواچھی طرح اور ذبح کرو تواچھی طرح ،اورتم میں سے جب کوئی  جانور ذبح کرےتو اپنی چھری کوتیزکرلے،اورذبیحہ کو آرام پہنچائے"۔اس حدیث کی بنا پر جانورذبح  کرنے کےبعدجب اس کی سانس بالکل نکل جائے یعنی خوب  ٹھنڈا ہوجائےتوتب اس کی کھال اتارنی چاہیے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق  جلدبازی  میں جانور کی کھال اس کی سانس پوری طرح نکلنے اور ٹھنڈا ہونے سے پہلے ہی اتارنے میں چونکہ جانور  کو بے جا  ایذااور تکلیف ہوتی ہےاس لیے ایساکرنامکروہ ہے۔

 عن شداد بن أوس قال اثنتان حفظتهما عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال :إن الله كتب الإحسان على كل  شيء فإذا قتلتم فأحسنوا  القتلة وإذا  ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم  شفرته فليرح ذبيحته.(الصحيح لمسلم،كتاب الصيدوالذبائح،باب الأمر بإحسان الذبح،ج3ص1548)

   (و)کره كل تعذيب بلافائدة(مثل قطع الرأس والسلخ قبل أن تبرد)أى تسكن عن اضطراب وهوتفسيرباللازم كمالايخفى.لأنه يلزم من برودتهاسكونهابلاعكس۔(الدرالمختار مع ردالمحتار،كتاب الذبائح،ج9ص427)


فتویٰ نمبر : 8704/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں