بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

پراپرٹی ڈیلر کا بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن لینا


سوال

زید پراپرٹی کا کاروبار کرتا ہے زید کے پاس مختلف قسم کے لوگ آتے ہیں مثلا کوئی آتا ہے کہ ہمارے لئے اچھا سا پلاٹ دیکھواور کوئی آکر کہتا ہے ہمارا ایک پلاٹ ہے اس کو فروخت کرو ۔زید دونوں سے کہتا ہے ٹھیک ہے لیکن میں دونوں(بائع،مشتری)سے کمیشن لوں گامثلا دس فیصد(10٪) کمیشن ۔تو کیا زید کے لئے بائع ومشتری دونوں سے کمیشن لینا درست ہے؟

جواب

        زمین کی خریدوفروخت میں پراپرٹی ڈیلر کا کردار دلال کا ہوتا ہے اور دلالی کی اجرت لینے میں شرعا کوئی قباحت نہیں ۔صورت مسئولہ میں اگر کوئی دلال بائع اور مشتری دونوں سے کمیشن طے کر لے تو اس کےلئے دونوں سے کمیشن وصول کرنا   جائز ہوگا۔

وفي الحاوي سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا ، وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه۔               (ردالمحتارعلی الدرالمختار،جلد9،ص87)  

   واما الدلال فان باع العین بنفسہ باذن ربھا فاجرتہ علی البائع وان سعی بینھما وباع المالک بنفسہ یعتبر العرف ،وتمامہ فی شرح الوھبانیۃ۔قولہ:(یعتبر العرف) فتجب الدلالۃ علی البائع او المشتری او علیھما بحسب العرف۔جامع الفصولین۔(الدرالمختارمع ردالمحتار،جلد7،ص93)


فتویٰ نمبر : 2739/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں