بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

گاؤں میں نماز جمعہ


سوال

ہمارا گاؤں جگیاں شہر حویلیاں سے تقریبا ایک گھنٹہ فاصلہ پر واقع ہے جس میں مندرجہ ذیل سہولیات موجود ہیں ۔ایک پرائیویٹ ڈاکٹر ہے جو معمولی امراض کی چکؤ اپ اور دوائی دیتے ہیں ، اور اس کے علاوہ چار دکانیں ہیں جن پر آٹا ، چینی ، دودھ ، وغیرہ ملتا ہے ، بچوں اور بچیوں کے دو پرائمری سکول ہیں ، گاؤں کی کل آبادی تقریبا 150 گھر وں پر مشتمل ہے ، اور گاؤں میں چار مساجد ہیں ان میں سے دو مسجدو ں میں جمعہ کی نماز ادا کی جاتی ہے ایک ہماری مسجد اور ایک دوسری مسجد میں حالانکہ ابتداء صرف ہماری مسجد میں جمعہ شروع ہواتھا اور مرکزی مسجد بنی تھی اور تقریبا 30 سال سے جمعہ ہماری مسجد میں جاری ہے لیکن بعد میں دوسری مسجد والوں نے جو کہ بریلوی ہیں جمعہ شروع کر دیا ، اب ہماری مسجد میں جمعہ کی نماز میں تقریبا عام حالات میں 100 یا 150 آدمی ہوتے ہیں اور رمضان المبارک کے جمعہ میں تقریبا 400 کے لگ بھگ افراد ہوتے ہیں اور تمام نمازوں میں نمازیوں کی تعداد عام حالات میں تقریبا 5 سے 20 تک ہوتی ہے ، جبکہ رمضان المبارک میں 40 ،50 کے لگ بھگ ہوتی ہے ۔ اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ شریعت کی رُو سے ہمارے گاؤں جگیاں میں جمعہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں ؟ اگر جائز نہ ہو تو منع کرنے کی صورت میں ایک بڑے فتنہ کا اندیشہ ہے ، نیز اگر ضلع کے ڈپٹی کمشنر سے جمعہ کی اجازت لی جائے تو کیا از رُوئے شرع جمعہ جائز ہوجائے گا یا نہیں ؟ مدلل جواب عنایت فرماکر عنداللہ ماجور ہوں ، والسلام ۔

جواب

جمعہ کے وجوب ادا کے لئے دوسری شرائط کے علاوہ ایک شرطیہ بھی ہے کہ  شہر   ہو یا شہر کاتابع ہو یا بڑا گاؤں ہو۔موجودہ دور میں جس گاؤں /قصبہ کی آبادی دو ڈھائی ہزار  افراد پر مشتمل ہو اور ضروریات زندگی اس میں  میسر ہوں   تو اس میں نماز جمعہ جائز ہے  ، لیکن جہاں کہیں یہ شرائط مفقود ہوں وہاں نماز جمعہ پڑھنا جائز نہیں  ،تاہم اس کے باوجود اگر کسی جگہ نماز  جمعہ ادا ہوتی ہو اور اس کو منع کرنے سے آپس میں انتشار اور فتنہ برپا ہونے کا اندیشہ ہو تو ایسی صورت میں اس جگہ نماز جمعہ پڑھنے کی  گنجائش ہے ۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگر اس گاؤں (جگیاں )  میں  دو ڈھائی ہزار آبادی موجود ہے اور ضروریات زندگی بھی میسر ہیں تو نماز جمعہ  کی ادائیگی درست ہے  ، اور محلہ کے دوسری مساجد میں بھی  نماز  جمعہ کا  انعقاد درست ہے ،لیکن اگر یہ شرائط مفقود ہیں لیکن  جمعہ   کی ادائیگی  پھر بھی ہوتی ہے اور منع کرنے سے فتنہ اور فساد کا خطرہ ہو  تو  بھی گنجائش ہے ۔

وَتُؤَدَّى الْجُمُعَةُ في مِصْرٍ وَاحِدٍ في مَوَاضِعَ كَثِيرَةٍ وهو قَوْلُ أبي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى وهو الْأَصَحُّ(الفتاوی الھندیہ ج1 ص145)

 واستشهد له بما في التجنيس عن الحلواني أن كسالى العوام إذا صلوا الفجر عند طلوع الشمس لا يمنعون لأنهم إذا منعوا تركوها أصلا وأداؤها مع تجويز أهل الحديث لها أولى من تركها أصلا(ردالمحتار علی الدرالمختار ج2ص171)

قلت وھذا وان کان غیر موافق لما علیہ الحنفیۃ ولکن اشد موافقۃ للمصالح الاسلامیۃ الاجتماعیۃ خصوصا فی ھذا القطر وفی ھذا الزمان فان اعداءالاسلام یظفرون بمقاصدھم المشومۃ فی قری لاتقام فیہا الجمعۃ ویخیبون فی مواضع اقامۃ الجمعۃ والتوفیق من اللہ عز وجل وحفاظۃ الاسلام خیر من الاصرار علی ترکھا والمسئلۃ مجتھد فیھا ۔ (کفایت المفتی کتاب الصلوۃ جواب 388)


فتویٰ نمبر : 8703/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں