بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

غیر اسلامی ملک میں قیام اور نیشنلٹی حاصل کرنے کا حکم


سوال

سلام مسنون میرا سوال یہ ہے کہ جو لوگ کافروں کے ممالک میں رہائش پذیر ہیں اور وہاں کی نیشنیلٹی کے حصول کے لیے اپنی پوری قوت صرف کرنے میں مصروف ہیں اسلام ان کے متعلق کیا حکم لگاتا ہے کیونکہ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ میں ہر اس مسلمان سے بری ہوں جو مشرکین کے درمیان رہائش اختیار کرے الخ لیکن آج ہم دیکھ رہے ہیں لوگ سیر و تفریح اور اچھی زندگی کے لیے انہی ممالک کی طرف رجوع کر رہے ہیں اور عام عوام کی کیا بات بڑے بڑے علماء بھی ان ممالک میں رہائش پذیر ہیں بلکہ ان کی نیشنیلٹی حاصل کر رکھی ہے ان کے بارے میں حدیث بالا کی روشنی میں وضاحت کر کے مشکور فرمائیں۔

جواب

کسی غیر اسلامی ملک میں  مستقل رہائش اختیار کرنا اور اس ملک کے ایک باشندے اور  شہری ہونے کی حیثیت سے اس کو اپنا مستقل مسکن بنالینا ایک ایسا مسئلہ ہے  جس کا حکم زمانہ اور حالات کے اختلاف اور رہائش اختیار کرنے والوں کے اغراض ومقاصد کے اختلاف سے مختلف ہو تا ہے ۔مثلا:

 (1) اگرکوئی شخص  غیرمسلم ممالک میں رہائش اس نیت سے اختیار کرے کہ وہاں رہتے ہوئے اپنی اصلاح کے بارے میں فکر مند رہے گا اور وہاں کے غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت دے گا یا جومسلمان وہاں مقیم ہیں ان کو شریعت کے صحیح احکام بتائے گا  اور ان کو دین اسلام پر  جمے رہنے اور عمل کرنے کی ترغیب دے گا تو  اس نیت سے وہاں رہائش اختیار کرنا جائز اورموجب اجروثواب ہے۔

(2) اگر کوئی شخص معاشی مسائل سے دو چار ہو جائے اور محنت ومشقت کے باوجود اسے اپنے اسلامی ملک میں معاشی مسائل حل نہ ہو ں ان حالات میں اگر اس کوکسی  غیر اسلامی ملک میں  کوئی جائز ملازمت یا مزدوری مل جائے  تو اس کیلئے وہاں رہائش اختیار کرنا جائز ہے بشرطیکہ کہ وہ وہاں جاکر دینی احکام  پر عمل پیرا ہو۔اس لیے کہ حلال کمانے میں  شریعت نے کسی مکان اور جگہ کی قید نہیں لگائی بلکہ عام اجازت دی ہے کہ جہاں چاہو رزق حلال  تلاش کرو۔

(3)اگر کسی شخص کو اپنے ملک اور شہر میں اس قدر معاشی وسائل حاصل ہوں ،جن کے ذریعے وہ اپنے  شہر کے لوگوں کے معیار کے مطابق زندگی گزار سکتا ہو لیکن صرف معیاری اور خوشحال زندگی  گزارنے کی غرض سے غیر اسلامی ملک کا رخ کرتا ہے شرعا ایسی ہجرت کراہت سے خالی نہیں ۔اس لیے کہ یہ صور ت  دینی یا دنیاوی ضرورت کے بغیر اپنے آپ کووہاں  موجود فواحش  کے طوفان  میں ڈالنے کے مترادف ہے اور بلا ضرورت  اپنی دینی اور اخلاقی حالت کو خطرہ میں ڈالنا کسی طرح بھی درست نہیں ،کیونکہ تجربہ شاہد ہے کہ ایسے لوگ عموما کافرانہ عادات واخلاق کے سامنے تیز رفتاری سے پگھل جاتے ہیں ۔

(4)دنیا پرستی اور  شہوات سے مغلوب ہوکر  کسی غیر اسلامی ملک میں اس لئے نیشنلٹی حاصل کرنا  کہ دوسرے مسلمانوں پر اپنی بڑائی ظاہر کرےیا دار الکفر کی شہریت اور قومیت کو دار الاسلام کی قومیت پر فوقیت دیتے ہوئے ان کی قومیت کو اختیار کرتا ہے اور اپنی عملی زندگی میں کفار کی بودوباش  کو ترجیح  دے ،ایسےمقاصد کے پیش نظر  غیر اسلامی ممالک میں رہائش اختیار کرنا ناجائز ہے ۔کیونکہ احادیث مبارکہ میں ایسے شخص سے  حضورﷺ نے براءت کا اظہار فرمایا ہے جو کفار کے طور طریقوں اور عادات  پر عمل پیرا ہوکر ان کے ہاں زندگی بسر کرے۔

(5)اگر کسی مسلمان کو اس کے وطن میں کسی جرم کے بغیر تکلیف پہنچائی جا رہی ہو یا اس کو جیل میں ظلما قید کر لیا جائے یا اس کی جائیداد ضبط کر لی جائے اور کسی غیر مسلم ملک میں رہائش اختیار کرنے کے سوا ان مظالم سے بچنے کی اس کے پاس کوئی اور صورت نہ ہوتو ایسی صورت حال میں اس کیلئے غیر اسلامی ملک میں رہائش اختیار کرنا  بلا کراہت جائز ہے  بشرطیکہ وہ اس بات کا اطمینان کرلے کہ وہاں پر وہ دینی اقدار کی حفاظت کر سکے  گا ۔

جہاں تک ان روایات کا تعلق ہے  جن میں حضور ﷺ نے کفار اور ان کے ساتھ رہن سہن سے ممانعت فرمائی ہے حضرات محدثینؒ کی تشریحات کے مطابق وہ روایات مندرجہ ذیل اشخاص وحالات سے متعلق ہیں :

(1)جب کوئی مسلمان غیر اسلامی ملک میں رہائش اختیار کرنے سے کفار کی عادات واخلاق میں ان جیسا رویہ اختیار کرنے لگے ۔

(2)دنیوی مفادات کی خاطر اسلامی نظریات چھوڑ دے اور اہل کفر سے مشابہت کو ترجیح دے کر اپنی ظاہری شکل وصورت بھی کفار جیسی بنائے ۔

(3)ممانعت پر مشتمل روایات  سے مقصود اہل کفر کے دوستانہ قلبی تعلقات سے اجتناب ہے نہ کہ مطلقا غیر اسلامی ممالک میں جانے کی ممانعت ۔

(4)تفاسیراور  کتب احادیث کے سیاق وسباق  سے معلوم ہوتا ہے کہ ان روایات کا تعلق دار الحرب سے ہے جہاں پر مسلمانو ں کو رہائش اور جانے سے اس لیے  روکا گیا کہ کہیں کفار پر حملہ ہونے کی صورت میں ان کی جان ومال ضائع نہ ہو ں ۔

   موجودہ  مادی  دور میں عام  مشاہدہ ہے  کہ جو لوگ  غیر اسلامی ممالک میں رہائش پذیر ہوتے ہیں عموما وہ اسلامی اقدار کی حفاظت نہیں کر پاتے ،بالخصوص ان کی اولاد  غیر مسلموں کے طور طریقوں سے متاثر ہوکر  اسلامی نظریات اورمسلمانوں کے طور طریقوں سے عاری وخالی  نظر آتی ہیں لہذا ایسی صورت حال میں بلاضرورت محض دنیوی مفاد کی خاطر اپنے آپ اور اولاد کو ایسے امتحان سے بچانے کی  عزم وکوشش کرنی چاہیئے۔  کہیں ایسا نہ ہو کہ دنیا طلبی میں دین کی سودا کرنا پڑے ۔(اللہ تعالی کی پناہ)۔

قال اللہ تعالی"هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ ذَلُولًا فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا وَكُلُوا مِنْ رِزْقِهِ وَإِلَيْهِ النُّشُور"۔

 قوله تعالى:{فَامْشُوا فِي مَنَاكِبِهَا} هو أمر إباحة ، وفيه إظهار الإمتنان. وقيل : هو خبر بلفظ الأمر ؛ أي لكي تمشوا في أطرافها ونواحيها وآكامها وجبالها.(الجامع لاحكام القرآن للقرطبي ،سورة الملك،الآية:15، ج 18 ص215)

قال اللہ تعالی:"فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ"۔(النساء:الآیۃ:92)

عَنْ قَيْسٍ عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قالَ: قالَ رَسُولُ اللَّهِ ﷺ: «مَن أقامَ مَعَ المُشْرِكِينَ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنهُ الذِّمَّةُ أوْ قالَ: لا ذِمَّةَ لَهُ»؛ قالَ ابْنُ عائِشَةَ: هو الرَّجُلُ يُسْلِمُ فَيُقِيمُ مَعَهم فَيُغْزَوْنَ، فَإنْ أُصِيبَ فَلا دِيَةَ لَهُ لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ السَّلامُ فَقَدْ بَرِئَتْ مِنهُ الذِّمَّةُ. وقَوْلُهُ: " أنا بَرِيءٌ مِنهُ " يَدُلُّ عَلى أنْ لا قِيمَةَ لِدَمِهِ كَأهْلِ الحَرْبِ الَّذِينَ لا ذِمَّةَ لَهم۔(احكام القرآن للجصاص،باب المسلم يقيم في دار الحرب،ج2/ص242)

وقال الخطابي في معناه ثلاثة وجوه قيل معناه لا يستوي حكمهما وقيل معناه أن الله فرق بين داري الإسلام والكفر فلا يجوز لمسلم أن يساكن الكفار في بلادهم حتى إذا أوقدوا نارا كان منهم بحيث يراهاوقيل معناه لا يتسم المسلم بسمة المشرك ولا يتشبه به في هديه وشكله ۔(عون المعبودشرح سنن ابي داؤد،رقم الحديث2642،ج7ص245)

وقَوْلُهُ (تَعالى): ﴿لا يَتَّخِذِ المُؤْمِنُونَ الكافِرِينَ أوْلِياءَ مِن دُونِ المُؤْمِنِينَ﴾؛ اَلْآيَةَ؛ فِيهِ نَهْيٌ عَنِ اتِّخاذِ الكافِرِينَ أوْلِياءَ؛۔۔۔قالَ ابْنُ عَبّاسٍ: نَهى اللَّهُ (تَعالى) المُؤْمِنِينَ بِهَذِهِ الآيَةِ أنْ يُلاطِفُوا الكُفّارَ۔(أحكام القرآن للجصاص ج2/9)

عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَمَّا بَعْدُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَامَعَ الْمُشْرِكَ وَسَكَنَ مَعَهُ فَإِنَّهُ مِثْلُهُ»۔أي: اجتمع معه في دار أو بلد، والأحسن أن يقال: معناه اجتمع معه، أي: اشترك في الرسوم والعادة والهيئة والزي، وأما قوله: (وسكن معه) علة له، أي: سكناه معه صار علة لتوافقه في الهيئة والزي والخصال (فإنه مثله) نقل في الحاشية عن "فتح الودود": فإنه مثله، أي: يقارب أن يصير مثلًاله لتأثيرالجواروالصحبة، ويحتمل أنه تغليظ.(سنن ابي داؤدمع بذل المجهود،كتاب الجهاد ،باب في الاقامة بارض الشرك،ج12ص425) 


فتویٰ نمبر : 4486/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں